حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 21
39 38 غذ رقبول کر لیا۔صوفی عبدالقدیر صاحب کو آپ نے خدمت سلسلہ کے لئے وقف کر دیا تھا۔انہیں حضرت ماسٹر قا در بخش صاحب کے والد ماجد کا اُس وقت جماعت سے جاپان میں دین حق کی دعوت الی اللہ واشاعت کے علاوہ بہت سی انگریزی کتب کے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ وہ ماسٹر صاحب کے بھی سخت مخالف تھے۔اور ماسٹر صاحب تراجم کرنے کی توفیق بھی ملی۔آپ نے درشین کے منتخب اشعار کا انگریزی ترجمہ کیا جو بہت سے ابتلاؤں سے گزر رہے تھے۔اس پر یہ امتحان بہت بڑا اور سخت تھا۔لیکن PSALMS OF AHMAD کے نام سے شائع شدہ ہے۔آپ انگریزی رساله ریویو آف ریجنز REVIEW OF RELIGIONS کے ایڈیٹر بھی حضرت ماسٹر صاحب اس امتحان میں کمال تعریف کے ساتھ کامیاب ہو گئے۔اُنہوں نے نہ تو یہ خیال کیا کہ حضرت منشی صاحب کی تنخواہ بہت کم ہے اور نہ یہ سوچا رہے اور کئی جماعتی خدمات بجالاتے رہے۔بیٹی مریم صاحبہ کی شادی معروف خادمِ سلسلہ حضرت مولانا عبدالرحیم در دصاحب کے ساتھ ہوئی۔کہ وہ صاحب اولاد ہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ اُنہوں نے کچھ دیکھا نہ پوچھا بلکہ اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کو عین ثواب سمجھا اور اپنے والد صاحب اور خاندان کی مخالفت کے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت منشی عبد اللہ سنوری صاحب کو کثیر اولاد باوجود اپنی ہمشیرہ زینب صاحبہ کی شادی حضرت منشی صاحب سے کر دی اور خدا تعالیٰ بخشی۔آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ کے بعد آپ کے بچے سلسلہ کی خاطر ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہتے تھے۔اور اپنے والد کی طرح سلسلہ کے فدائی تھے۔نے اس کو بہت با برکت فرمایا۔منشی عبداللہ صاحب نے اپنے مشفق آقا کو اپنی شادی کے بارہ میں اطلاع آپ کی نسل سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد کو سلسلہ کی خدمت کی توفیق ملتی رہی دی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کے ولیمہ کی تقریب ۲۲ / جنوری اور اب تک حاصل ہو رہی ہے۔۱۸۹۷ء کو قادیان میں منعقد فرمائی۔جس میں ۸۰ سے زائد احباب شامل ہوئے۔اس دعوت ولیمہ کا تمام تر انتظام پیارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمایا اور اس کا نصف خرچ بھی حضور نے اپنی طرف سے ادا کیا۔( مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحه ۱۸۷) اخلاق فاضلہ حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب کی پاکیزہ اور دیندارانہ طبیعت، رزق آپ کی اہلیہ اول سے چار بیٹے رحمت اللہ صاحب ، حبیب اللہ صاحب ، حلال کا شوق، صحبت صالحین کی تڑپ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول حضرت محمد عبدالرحیم صاحب اور عصمت اللہ صاحب اور ایک بیٹی شریفن صاحبہ تھیں۔عصمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے پاک مسیح سے عشق ، تقویٰ، اخلاص، عہد و پیمان کی پاسداری، آپ کا دینی خدمات کے لئے خود کو وقف کرنا، امام الزمان کی دل و جان اللہ صاحب بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔دوسری اہلیہ سے صوفی عبدالقدیر نیاز صاحب اور مریم صاحبہ پیدا ہوئیں۔سے اطاعت اور وفاداری جیسے اوصاف کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔