حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 20 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 20

37 36 خادم اور آقا کے درمیان محبت و پیار کا یہ رشتہ ایسا تھا کہ حضور اپنی ذاتی خوشی کے پہلی مرتبہ قادیان آنے سے پہلے ہو چکی تھی۔دوسری شادی کے معاملات میں کے مواقع پر بھی حضرت میاں عبداللہ صاحب کو یاد فرمایا کرتے۔چنانچہ ۱۵ / جنوری جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آپ کے قریبی تعلق اور الفت ۱۸۸۹ ء کو آپ کے نام خط میں اپنے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی و محبت اور آپ کے حضور سے پیار کا اظہار ہوتا ہے وہاں اس کے متعلق بعض الہی ولادت اور عقیقہ کی تحریری اطلاع ارسال فرمائی۔اسی طرح ۲۰ را پریل ۱۸۹۳ء کو ایک نشانات کا ظاہر ہونا اسے نہایت منفرد اور تاریخی بنادیتا ہے۔دوسرے بیٹے کی پیدائش کی اطلاع بھجواتے ہوئے سب احباب کو اطلاع دینے کی دوسری شادی کی ضرورت پیش آنے پر جب آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کا ذکر کیا تو حضور جو اپنے خدام پر بے انتہا شفقت فرمایا کرتے مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحه ۱۷۲۱۶۳) تھے آپ کے اس معاملہ میں ذاتی توجہ سے ہر ممکن کوشش فرماتے رہے۔ڈیوٹی بھی آپ کے سپرد کی۔حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب سے حضور کی یہ محبت اس قدر گہری تھی خطاب سے قبل بھی میاں عبد اللہ سنوری صاحب کا ذکر خیر فرمایا۔ایک جگہ آپ کے رشتے کی بات چل رہی تھی۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح کہ ۱۸۹۱ء میں منعقد ہونے والے جماعت کے پہلے جلسہ سالانہ پر حضور نے اپنے موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دست مبارک سے خطوط بھی تحریر فرمائے۔سفر انبالہ کے دوران سرہند تشریف لے جانے کی ایک وجہ اس رشتہ کی کوشش بھی تھی۔حضور اس (سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۱۶۵ روایت نمبر ۱۶۹) غرض کے لئے دعاؤں میں بھی مصروف رہے لیکن دعا کرتے ہوئے حضور کو الہام ہوا ”ناکامی پھر دعا کی تو الہام ہوا ” اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔پھر اس کے بعد ایک پیار ومحبت کے اس تعلق کی انفرادیت یہ بھی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر میاں عبداللہ سنوری صاحب کو خاتمہ تک آپ اور الہام ہوا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ “۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خودان الہامات کی زندگی میں پیش آنے والے اہم واقعات و حالات سے آگاہ کر دیا تھا۔میاں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: عبد اللہ سنوری صاحب بیان کرتے ہیں کہ اُن کی زندگی میں اُسی کے مطابق حالات و واقعات پیش آتے رہے ہیں۔(سیرت المہدی صفحہ ۱۶۱ روایت نمبر ۱۵۹ ) یہاں تک کہ اُن کی وفات بھی جمعہ کے روز ہوئی جیسا کہ حضور نے آپ کو بتلایا تھا۔شادی واولاد معلوم نہیں میاں عبداللہ صاحب کا ہمارے ساتھ کیسا تعلق ہے کہ ادھر دُعا کرتا ہوں اور اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب مل جاتا ہے۔‘“ (سیرت المہدی حصہ اول صفحہ اے ) چنانچہ حضرت ماسٹر قا در بخش صاحب کی ہمشیرہ سے رشتہ کے لئے حضرت حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب نے دوشادیاں کیں۔پہلی شادی اُن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوشش فرمائی۔جسے ماسٹر قا در بخش صاحب نے بلا