حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ

by Other Authors

Page 14 of 16

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 14

25 24 دیتے۔اس تکلیف میں چھ ماہ کا لمبا عرصہ گزر گیا۔مگر ایک منٹ کے لئے بھی نا شکری نہ کی اور نہ سلسلہ کی ( دعوت الی اللہ ) کو چھوڑا۔ان کا صبر ایوب کا صبر تھا۔انہوں نے یہ بے نظیر نمونہ ( دعوت الی اللہ ) میں قائم کیا۔باوجود شدت امراض کے بھی ( دعوت الی اللہ ) نہ چھوڑی۔دردوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ( دعوت الی اللہ ) کرتا رہا۔کبھی پگڑی سے سر اور منہ مگر جب افاقہ ہوتا تو لوگوں کو جمع کر کے سلسلہ کا پیغام دیتے۔قرآن کریم کا درس کو باندھتا اور کبھی ٹانگوں پر پگڑی باندھتا اور کبھی بازوؤں پر۔انہی دنوں ایک اہلحدیث کانفرنس کا نپور میں ہو رہی تھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب بھی وہاں موجود تھے اور مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی بھی تھے۔کانفرنس میں ثناء اللہ صاحب نے ہمارے سلسلہ کو پینج دیا اور ہمارے (مربی) کا نام لے کر چیلنج دیا۔میں نے کہا کہ وقت دو تا کہ میں ان کو لے آؤں۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے آدھ گھنٹے کا وقت دیا جو کافی نہ تھا۔اس دن ٹانگے والوں کی ہڑتال تھی۔مگر خدا کی قدرت، میں جب پنڈال سے نکلا تو ایک یکہ کھڑا تھا۔اس سے پیسے پوچھے تو اس نے آٹھ آنے مانگے۔میں نے منہ مانگے دام دیئے اور جج صاحب کی کوٹھی پر آیا۔مولانا کو قصہ سنایا۔وہ اس وقت اعصابی تکلیف میں مبتلا تھے۔اس وقت بے اختیار ان کے منہ سے نکالا کہ پھر چلیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔گرم کوٹ کھونٹی سے اتار کر صبر کی ایک اور مثال (الحکم مورخہ 7 ستمبر 1924 ء) حضرت مولوی صاحب کے جواں سال اور عالم فرزند مکرم مولوی مصلح الدین صاحب فوت ہو گئے۔آپ کے پاس دوست تعزیت کے لئے آئے تو آپ نے پہن لیا اور اللہ کا نام لے کریکہ پر بیٹھ گئے اور اعصابی دردوں کی موجودگی میں پنڈال فرمایا کہ جب کسی دوست کا لڑکا اپنے چا، ماموں یا پھوپھی کے پاس جاتا ہے تو وہ نخر پہنچ گئے۔آٹھ دس ہزار کا مجمع تھا۔سامنے سے صفوں کو چیرتے ہوئے پیج پر چلے گئے۔مولانا ثناء اللہ صاحب نے کرسی منگوا کر دی اور میں پاس سٹیج پر بیٹھ گیا۔اس غیرت ایمانی سے طبیعت میں ایک ایسی حالت پیدا ہوئی کہ وہ در درک گیا۔مباحثہ شروع ہوا۔دو گھنٹہ تک وہ رنگ پیدا ہوا کہ غیر احمدیوں نے ہمارے (مربی) کے ہاتھ چومے اور دعا کی درخواستیں دیں۔پھر منگلور پہنچے تو یہاں بھی شدید قسم کی تکلیفوں میں مبتلا رہے۔پہلے اعصابی دورے تھے۔پھر بخار ہوا۔پھر یہ بیماری اب انفلوئنزا ہو گیا۔کئی کئی گھنٹہ بیہوشی رہتی۔سے کہتا ہے کہ میرالڑ کا فلاں عزیز کے پاس گیا ہوا ہے۔اب میرالر کا سب سے زیادہ محسن اور پیارے خدا کے پاس چلا گیا ہے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا ہے تو اس میں میرے لئے رنج کی کون سی وجہ ہے۔شکر ہے کہ اس کا انجام بخیر ہو گیا اور وہ اپنے حقیقی مولا کے پاس پہنچ گیا۔" آپ کی عاجزانہ راہیں سادگی“ حضرت مولوی صاحب نے ظاہری اعتبار سے انتہائی سادگی سے زندگی