حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ

by Other Authors

Page 13 of 16

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 13

23 22 مولوی عبدالرحیم صاحب درد، حضرت مرزا عبدالحق صاحب سابق امیر ضلع سرگودھا) محترم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ (سابق امیر را ولپنڈی) اور محترم نواب اکبر یار جنگ صاحب حیدر آباد دکن و غیرہ۔خلافت اولی کے زمانہ میں جب آپ کی تقرری لاہور میں تھی تو صدر انجمن احمدیہ کے تین اراکین خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی آپ سے تفسیر القرآن، حدیث اور بعض دینی عربی کتب پڑھتے رہے۔لیکن افسوس کہ یہ تینوں خلافت ثانیہ کی بیعت سے محروم رہے۔تکالیف پر صبر و ثبات اور اعلائے کلمتہ اللہ میں استقلال ایسی اعصابی بیماریوں اور مشکل حالات میں بھی آپ نے دور دراز کے سفر ے کیے اور تمام تکالیف کو نہایت خندہ پیشانی اور صبر سے برداشت کیا۔چنانچہ اس بارہ میں شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم کا مضمون امراض و آلام کا شکار ( مربی “ کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔آپ لکھتے ہیں: آج ہم ایسے (مربی) کا ذکر سُناتے ہیں جو صبر کے لحاظ سے اس زمانہ کا ایوب ہے۔1915ء کا واقعہ ہے کہ خاکسار کو ایک (مربی) کے ساتھ ( دعوت الی اللہ ) کا سفر کرنا پڑا۔یہ سفر بہت طویل تھا۔میں اس وقت ایک نا تجربہ کار نو جوان تھا۔میرا ساتھی ایک عالم فاضل اور متقی اور با خدا انسان تھا۔راستہ میں دہلی کے سٹیشن حضرت مولوی صاحب اپنی زندگی کے اکثر حصہ میں اعصابی امراض کا پر میرے ساتھی کو اعصابی دورے شروع ہو گئے۔مجھ سے اُن کی حالت دیکھی نہ شکار رہے ہیں۔لیکن باوجود شدید تکلیف کے آپ صبر و تسلیم کے ساتھ ہر وقت جاتی تھی۔ان کے پٹھے کھینچ جاتے تھے اور کبھی یہ عصبی در دسر اور گردن اور پٹھوں پر ہوتا خدمت دین کے لئے مستعد رہے۔آپ نے سالہا سال تک بیت اقصیٰ قادیان اور بھی جبڑوں کے پٹھوں پر بھی کندھے اور بازو پر اور کبھی کسی اور جگہ میں۔میں میں رمضان المبارک کے دوران درس دیا۔کئی دفعہ شدید دماغی محنت کے باعث حیران تھا کہ ایسی حالت میں یہ دعوت الی اللہ ) کیا کریں گے؟۔۔۔۔رات کے دس اعصابی دورہ کا حملہ ہو جاتا اور آپ کی آنکھوں اور چہرہ پر تشنج کی کھچاوٹ پیدا ہو بجے کے قریب کا نپور پہنچے۔مولانا کو شدید بخار ہو گیا تھا۔رات کو خان بہادر محمد حسین جاتی۔لیکن آپ ایسی حالت میں بھی درس القرآن میں مصروف رہتے۔بعض دوست ہمدردی سے آرام کا مشورہ دیتے تو آپ پنجابی زبان کی کہاوت بیان کرتے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر گرد کھاتے ہوئے کسی کی موت واقعہ ہو تو ہونے دو صاحب حج کی کوٹھی تلاش کی۔مگر نہ ملی۔پریشان ہو کر ایک سرائے میں پناہ گزین ہوئے۔گرمی کا موسم تھا۔سرائے کے لوگوں سے اندیشہ تھا کہ چوری نہ کریں۔اس لئے کمرے کے اندر رات گزاری۔مچھروں نے بری طرح کاٹا۔ادھر مولانا کو اور فرماتے کہ اگر میری موت کلام الہی سناتے ہوئے واقع ہو جائے تو اس سے بڑھ شدت بخار سے ہوش نہ رہا۔صبح بمشکل کوٹھی کا پتہ ملا اور ٹانگہ پر وہاں گئے۔کر اور کیا سعادت ہوگی۔اس بیماری کی حالت میں کوٹھی پر لوگ ملنے آئے۔ہمارا ( مربی ) اعصابی