حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 15
27 26 گزاری۔یہاں تک کہ آپ کے لباس کو دیکھ کر جو دیہاتی طرز کا ہوتا، کوئی آپ کی بالقضا اور اللہ تعالیٰ کی محبوب و محسن ہستی کے ساتھ والہانہ عشق، سیدنا ومولانا حضرت علمیت کا اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔جناب سردار دھر ماننت سنگھ صاحب پرنسپل سکھ مشنری محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے مقدس کالج امرتسر نے بیان کیا ہے کہ میں قادیان میں جلسہ سالانہ میں شریک ہوا۔جب خلفاء کی کامل اطاعت و فرمانبرداری۔اہل بیت سے محبت و اخلاص، انکسار اور ہر حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے ضرورت کے موقعہ پر آستانہ الہی پر جھک جانا آپ کی پاک زندگی کا آئینہ ہے۔اللہ اور میرے ساتھیوں نے آپ کی نہایت سادہ وضع قطع اور لباس کو دیکھ کر سٹیج سے باہر تعالیٰ نے آپ کی مضطر بانہ دعاؤں کی برکت سے آپ کو اپنا قرب اور وصال بخشا۔جانا چاہا۔لیکن جب ہم اٹھ کر باہر جارہے تھے تو آپ کی تقریر کے ابتدائی فقرات آپ پر دینی حقائق واسرار کھولے اور انشراح صدر کی نعمت عطا فرمائی اور ایک طویل ہمارے کانوں میں پڑے جو اس قدر پر تاثیر تھے کہ ہم رُک گئے اور آپ کی تقریر عرصہ تک آپ سے تائید دین کے لئے مقبول خدمات لیں۔سننے کے لئے بیٹھ گئے۔آپ نے جو حقائق و معارف اپنی تقریر میں بیان فرمائے اس آخری عمر تک بڑھاپے میں بھی آپ روزانہ اپنے مکان پر بھی اور بیت سے ہمیں بہت لطف آیا۔چنانچہ تقریر کے بعد ہم آپ کے گھر پر بھی آپ سے الذکر میں بھی درس و تدریس اور وعظ ونصیحت میں مصروف رہتے اور ( دین حق ) اور عارفانہ نکات سنتے رہے اور ہمیں محسوس ہوا کہ آپ کے نہایت سادہ لباس کے اندر معرفت الہی اور نور و برکت کا مجسمہ چھپا ہے۔پھر تو جب بھی ہم قادیان آتے تو حقائق و معارف سننے کے لئے اکثر آپ کے پاس حاضر ہوتے۔مکرم چوہدری حسن دین صاحب باجوہ (درویش) ذکر کرتے ہیں کہ جن ایام میں حضرت مولوی صاحب سے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب لاہور میں بعض عربی کتب پڑھتے تھے تو اس وقت میں محترم چوہدری صاحب کے ہاں ملازم تھا اور آپ نے مجھے تاکید فرما رکھی تھی کہ بوجہ حضرت مولوی صاحب کی سادگی کے آپ کے اعزاز و احترام میں فرق نہ آنے دوں۔کیونکہ آپ کا مقام بہت بلند اور عظیم القدر ہے۔شمائل کریمہ احمدیت کی ترقی کے لئے اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اور ضرورت مند احباب کے لئے جو بکثرت آپ کی خدمت میں دعاؤں کی درخواست کے لئے حاضر ہوتے ، یا درجنوں خطوط اس بارہ میں آتے ، آپ دعاؤں میں مصروف رہتے۔وفات آپ کو تقریباً ایک سال تک پیشاب کی بندش اور سینہ میں درد کی تکالیف لاحق رہیں جن کی وجہ سے آپ بہت کمزور ہو گئے تھے۔درمیان میں بعض دفعہ ان تکالیف سے افاقہ ہو جاتا لیکن پھر یہ تکالیف دوبارہ شروع ہو جاتیں۔بالآخر آپ مؤرخہ 15 دسمبر 1963ء کو نماز عشاء کے وقت سات بجے کے قریب 85 سال آپ کی زندگی خلوص، قربانی ، مصائب و مشکلات پر صبر ، توکل علی اللہ ، رضا کی عمر میں انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ