حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ

by Other Authors

Page 9 of 16

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 9

15 14 دعوت الی اللہ اور تقاریر اور مناظرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد خاص طور پر آپ کے علم و عرفان اور اور تعلق باللہ میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت بخشی اور آپ کو روحانی نعمتوں سے اس قدر وافر حصہ عطا فرمایا کہ آپ تقریباً نصف صدی سے زائد عرصہ تک بھٹکے ہوؤں کو راہ راست پر لانے اور فیض رسانی کا ذریعہ بنے رہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ الہام اور رؤیا وکشوف کی نعمت سے بھی بکثرت نوازا۔آپ کے تقوی اور زہد کی وجہ سے آپ کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی جناب میں بکثرت مقبول ہوتی تھیں۔اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی رنگ میں دین کی خدمت کی (جوغوث اور قطب مشہور تھے )، چا حضرت حافظ نظام الدین صاحب مرحوم اور ان کے بیٹے حضرت میاں غلام علی صاحب مرحوم (سابق صدر جماعت سعد اللہ پور ) نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔غیر احمدی و غیر مبائع علما ء، آر یہ پنڈتوں اور پادریوں سے آپ کے بے شمار مناظرات ہوئے جن میں خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کو کامیابی نصیب ہوتی رہی اور سینکڑوں افراد بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے۔آپ کی یہ ساری کامیابیاں ظاہری علم سے زیادہ آپ کی دعاؤں کی تاثیر کا نتیجہ تھیں اور آپ کی زندگی کے اکثر واقعات ایسے ملتے ہیں جن میں مخالفین خدا تعالیٰ کی طرف سے کرشماتی رنگ میں ظاہر ہونے والے نشان کو دیکھ کر عاجز آ جاتے تھے۔یوں تو آپ سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کے بعد شروع ہی سے دعوتِ ایسی توفیق عطا فرمائی جس کے نتیجہ میں آپ بلاشبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الی اللہ میں انتہائی سرگرم تھے اور آپ کی زندگی کے اوقات دعوت الی اللہ میں ہی بسر اس الہام کے مصداق ٹھہرے کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ ہو رہے تھے لیکن جماعت کے باقاعدہ (مربی) کے طور پر آپ نے خلافت اولی کے زمانے میں کام شروع کیا اور پھر قریباً نصف صدی تک ایسے ایسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دیئے جو رہتی دنیا تک یادر ہیں گے۔آپ نے اپنی دعوت الی اللہ کے تجربات اور زندگی میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کو اپنی خود نوشت سوانح حیات حیات قدسی میں محفوظ فرما دیا ہے۔جس کا مطالعہ از دیاد ایمان کا باعث ہوتا ہے۔آپ کے اعلائے کلمتہ اللہ میں انہماک اور تقاریر ومناظرات کے ( ترجمہ: ایسے مرد تیری مدد کریں گے جنہیں ہم آسمان سے وحی کریں گے ) 1897ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد سے ہی آپ انتہائی شوق سے دعوت الی اللہ میں لگ گئے اور تقریباً نصف سال تک (بیت) رحیمیہ لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے گاؤں واپس آگئے اور پوری طرح دعوت الی اللہ میں مصروف ہو گئے۔آپ کی اس دعوت الی اللہ کو دیکھ کر مخالفین چند واقعات نمونہ کے طور پر پیش ہیں۔نے آپ پر کفر کے فتوے لگوائے لیکن آپ کے نیک اثر اور اللہ کے فضل سے آپ کے قریبی رشتہ داروں میں سے آپ کے تایا حضرت میاں علم الدین صاحب مرحوم ابتدا میں جب آپ اپنے علاقہ میں دعوت الی اللہ میں مصروف تھے۔ایک قریب کے گاؤں میں ایک احمد دین نامی مولوی نے احمدیوں کے خلاف سخت