حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ

by Other Authors

Page 10 of 16

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 10

17 16 اشتعال پیدا کیا اور کہا کہ جس گاؤں میں بھی احمدی ہیں وہ گاؤں ایسے کنوئیں کی مانند ہے جس میں خنزیر پڑا ہو۔اگر گاؤں والے گاؤں کو پاک رکھنا چاہتے ہیں تو مرزائیوں کو نکال دیں۔کئی روز کی تقریروں سے اشتعال بڑھتا گیا اور مولوی نے سمجھا کہ کوئی بھی اب میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو بلایا گیا۔آپ نے آتے ہی مولوی کے نام عربی میں ایک خط لکھا۔اس نے آپ کو بلا بھیجا کہ آپ منبر پر تقریر کریں۔لیکن جب آپ تقریر کیلئے ( بیت الذکر ) میں پہنچے تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر میں کافر کو تقریر نہیں کرنے دوں گا اور اعتراض کرنے لگا۔آپ نے اس کی علمی پردہ دری کی تو اس نے آپ کو تھپڑ مار دیا۔اس بدتمیزی پر نمبردار وغیرہ نے مولوی کو سخت ملامت کی اور مجمع منتشر ہو گیا۔لیکن اس طرح ہزار ہا افراد تک جو وہاں موجود تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کا اعلان پہنچا۔یہ معلوم کر کے کہ مولوی ابھی گاؤں میں ہی ہے۔حضرت مولوی صاحب نے نمبر دار سے کہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کو قرآن مجید اور دین حق کی رو سے سچا سمجھ کر آپ لوگوں سے الگ ہوا ہوں۔اس لئے آپ اس مولوی سے میری گفتگو کرائیں تا لوگوں پر حق کھل جائے۔لیکن مولوی نے باوجود امن کی تسلی دلانے کے خطرہ کا عذر کر کے وہاں سے بھاگ جانا مناسب سمجھا اور پھر ادھر کا کبھی رُخ نہیں کیا۔بلکہ چند روز کے بعد ہی مرض آتشک میں گرفتار ہوا اور پھر جلد ہی مر گیا۔حضرت مولوی صاحب نے اس گاؤں میں چند دن خوب دعوت الی اللہ کی لیکن لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔آپ نے خواب دیکھا کہ طاعون نے اس گاؤں پر حملہ کر دیا ہے اور سخت تباہی ہوئی ہے۔چنانچہ چند دن بعد ایسا ہی ہوا اور طاعون سے قریباً گیارہ سو افراد ہلاک ہوئے۔گاؤں میں خوف پیدا ہوا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔جب کہ ارد گرد کے کے دیہات طاعون سے بالکل محفوظ ہیں۔تو ایک شخص نے کہا کہ مجھے خواب میں اس تباہی کا باعث ایک بزرگ یا فرشتہ نے وہ تھپڑ بتایا ہے جو 66 اس گاؤں میں خدا کا حکم سناتے ہوئے خدا کے ایک بندہ کو مارا گیا تھا۔بمقام مڈھ رانجھا حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کے عہد مبارک میں مولوی شیر عالم صاحب کے ساتھ تحریری مباحثہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا راجیکی صاحب کے دل میں القا کیا اور آپ نے اپنا پرچہ پڑھنے سے پہلے یہ دعا کی کہ ”اے خدا تعالیٰ اگر میرا پر چہ تیری رضا کے مطابق ہے تو سنانے سمجھانے کی توفیق دے اور حاضرین کو سنے اور سمجھنے کی اور قبول کرنے کی۔ورنہ نہ مجھے سُنانے کی اور نہ حاضرین کو سننے کی توفیق ملے۔“ چنانچہ آپ نے چار گھنٹے تک صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وفات حضرت مسیح ناصری پر اپنا پر چہ زبانی تشریح کر کے سُنایا اور غیر احمدی دوستوں نے خوب شوق سے سُنا۔غیر احمدی مولوی صاحب نے بھی حضرت راجیکی صاحب کے کہنے پر دعا کی اور پر چہ سُنانا شروع کیا۔تو تمام حاضرین یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ یہ وہی پرانی باتیں ہیں جو سنی ہوئی ہیں اور صرف مولانا راجیکی صاحب مع دو اور احباب کے رہ گئے اور ان مولوی صاحب نے پرچہ سُنا نابند کر دیا کہ اب کس کو سُناؤں۔حضرت مولوی صاحب نے اس دعا کی طرف توجہ دلا کر کہا کہ یہ آپ کے اقارب، دوست اور ہم مذہب تھے اور میں دوسری جگہ کا آدمی ہوں۔انہوں نے میری باتیں توجہ سے سنیں اور تمہاری نہ سنیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی حضرت مسیح موعود