حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 8
13 12 ہوں۔اگر خدا تعالیٰ کے دائمی فیض کے وارث بننا چاہتے ہو تو خلیفہ وقت کی دعاؤں کا اپنے آپ کو مورد بناؤ اور خود دعا ئیں کرنا اپنی عادت بنا لو۔تا کہ خدا تعالیٰ کے دائمی خلافت حقہ کے متعلق آخری وصیت مؤرخہ 12 مئی 1951ء کو حضرت مولوی صاحب نے اپنے بیٹے مکرم فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکو۔میں نے خود آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے مولوی برکات احمد صاحب بی۔اے کے نام اپنے ایک خط میں ایک وصیت نامہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ تنبیہ ہوتی رہتی ہے کہ میں اپنی اور دوسروں کی حاجت براری (منظوم) اپنی اولاد کے لئے تحریر فرمایا۔اس میں ایمان ورشد اور خلافت حقہ احمدیہ کے کے لئے خلیفہ وقت سے دعاؤں کی درخواست کرتار ہوں۔چنانچہ میں اپنی ہر حاجت ساتھ چھٹے رہنے کی تاکید فرمائی۔اس نظم کے خلافت کے متعلق اشعار درج ذیل ہیں۔اور بالخصوص دعوت الی اللہ کی مہمات میں حضرت خلیفہ امسیح کی خدمت اقدس میں بار جب جماعت میں کبھی ہو اختلاف بار دعاؤں کی درخواست پر مشتمل مخطوط ارسال کرتا رہتا ہوں۔آپ کی اس نصیحت کی خود حیات قدسی“ کے مطالعہ سے تصدیق ہو جاتی ہے۔“ ( روزنامه الفضل یکم اکتوبر 2007 ء ) اسی طرح ایک دفعہ آپ نے قادیان میں مکان بنوانے کے لئے قرض لیا۔جب اس قرض کی ادائیگی میں آپ کو وقت کا سامنا ہوا تو آپ نے اس کے لئے رمضان کے مہینے میں خصوصی دعا کا سلسلہ شروع کیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ” جب میں نے خاص توجہ سے اس گراں بار قرض کے اترنے کے لئے دعا کی اور دعا کرتے ہوئے آٹھواں دن ہوا تو اللہ تعالیٰ کی قدوس ذات میرے ساتھ ہمکلام ہوئی اور اس پیارے اور محبوب مولا نے مجھ سے ان الفاظ میں کلام فرمایا۔”اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا قرضہ جلد اتر جائے تو خلیفتہ المسیح کی دعاؤں کو بھی شامل کرائے۔“ (حیات قدسی حصہ چہارم صفحہ 6، 7 ) آل احمد میرے بچو مجھ سے سن لو صاف صاف مل جائیں سبھی اس سے گمراہی نہ پائیں گے کبھی ހނ وہ وصیت آخری یہی میری ہے عمل کرنا اسی یاد رکھنا تفرقہ جب ہے بہتری پر ہو عیاں خلافت ہی ہدایت کا نشاں آل احمد اور خلافت ہو جدھر سب میری اولاد ہو جائے اُدھر ہے ہدایت کا یہی معیار ایک میرے پیارے اس سے ہوں گے پاک و نیک ہوتا ہوں رخصت پیارو آپ سے یاد رکھنا بات اپنے باپ سے حیات قدسی حصہ سوم صفحہ 79،78)