حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 72
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 72 دن یا یوم ولادت یسوع کہتے ہیں۔متھرا ایک غار میں ۲۵ دسمبر کو ایک کنواری کے بطن سے پیدا ہوا۔اس کے ۱۲ شاگرد تھے۔وہ قبر میں دفن ہوا اور قبر سے زندہ ہو کر نکلا اس کے زندہ ہونے پر خوشیاں منائی گئیں۔اس دن میں دو تہوار منائے جاتے ہیں اور ہفتہ جنوری بجائے ہفتہ دسمبر اور آخر ہفتہ مارچ جو کہ ایسٹر ہالی ڈیز کا قائم مقام ہے۔اس کے پیرو عشائے ربانی میں شریک ہوتے ہیں۔اس کو منجی یا شفیع کہتے ہیں اور اس کو بچھڑے کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔“ پھر لکھا ہے: ینابیع المسیحیت صفحه ۷۴-۷۵ از خواجہ کمال الدین ایم۔اے) اپالو متھرا کا قائم مقام اوتار تھا۔اپالو ۲۵ دسمبر کو پیدا ہوا۔اس کے بارہ شاگردوں کی بجائے ۱۲ کارنامے ہیں۔آسمان پر ۱۲ برج یعنی حمل۔ثور۔جوزا۔سرطان۔اسد۔سنبلہ۔میزان۔عقرب قوس۔جدی۔دلو۔حوت۔اس سورج دیوتا کے ۱۲ یادگار ہیں۔جس کے قائمقام ۱۲ حواری یسوع کے ہیں۔برج عقرب کو یہود اسکر لوطی سے نسبت دی گئی ہے۔“ ینا ئج المسیحیت صفحه ۹۶ از خواجہ کمال الدین ایم۔اے) تاریخ ولادت مسیح کے متعلق ارباب کلیسیا میں زبر دست اختلاف پایا جاتا تھا۔اور مختلف تواریخ ان کے زیر بحث تھیں۔بعض اپریل اور مئی اور بعض مارچ اور اپریل میں اور بعض جنوری میں خیال کرتے تھے چنانچہ اس اختلاف کیلئے ملاحظہ فرماویں۔انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا اور چیمبرز انسائیکلو پیڈیاز پر لفظ کرسمس پس جو اختلاف مسیحیوں میں پایا جاتا تھا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صحیح واقعہ پیدائش بیان فرما کر حل فرما دیا ہے۔اور بتا دیا ہے کہ وہ گرمیوں کا موسم تھا اور وہ مہینہ تھا جس میں فلسطین میں کھجور میں اسقدر پک چکی ہوتی ہیں کہ درخت کے ہلانے سے گرنے لگتی ہیں چنانچہ وہ اگست ستمبر کا مہینہ بنتا ہے۔