حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 71
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔71 تب سے ہی اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رائج الوقت تیوہاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسیح کی تاریخ ولادت میں بھی تبدیلی کر لی گئی ۲۵ دسمبر ایک مقدس تاریخ سمجھی جاتی تھی۔ارباب کلیسیا نے اس دن کی مقبولیت کے پیش نظر حضرت مسیح کی پیدائش کا دن بھی یہی مقرر کر لیا تا کہ مشرکین کو عیسائیت میں آکر غیریت کا احساس نہ ہو۔پہلے وہ اپنے دیوتاؤں کا دن مناتے تھے بعد میں وہ خداوند یسوع مسیح کا یوم پیدائش منانے لگ گئے ولادت مسیح کی تاریخ کے تبدیل کئے جانے کا یہ پس منظر ہے جو مندرجہ ذیل کتب میں دیکھا جاسکتا ہے: (1) انسائیکلو پیڈیا آف برٹینی کا زیر لفظ کرسمس (۲) چیمبرز انسائیکلو پیڈیاز مر لفظ کرسمس (۳) پیکس تفسیر بائیل صفحه ۶۳۲ (۴)۔۔۔۔۔۔۔Rise of christianity صفحه ۷۹ ( بینابیع المسیحیت از خواجہ کمال الدین ایم۔اے چنانچہ دیوتاؤں کے ساتھ رائج الوقت اس دن کی نسبت کو بینابیع المسیحیت میں یوں بیان کیا گیا۔ہندوستان میں سورج دیوتا کو ایت" کہتے ہیں۔ایران میں متھر ا بابل میں بعل۔فریجیا میں آطیس کار تحصیح میں اور سیر یا میں ” اڈوانس یونان اور روما میں ” بیکس اور ھر کیولیس، مصر میں ہورس یا اوریں روما میں ” اپالو اور امریکہ اور میکسیکو میں لیٹن کوئل۔ہرا توار کے دن ان کی عبادت ہوتی تھی اور انگریزی میں Sunday کا دن یا ایت وار ہندوستان میں اس امر کی یادگار ہے پولوس نے اس کا مظہر اور قائم مقام یسوع کو ظاہر کیا اور صرف نام بدلا۔پھر لکھا ہے: ینابیع امسیحیت صفحه ۷۲ از خواجہ کمال الدین ایم اے) قریباً ان تمام دیوتاؤں کے پیدائش کا دن بھی ۲۵ لغائیت ۲۸ دسمبر ہے جس کو بڑا