حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 73 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 73

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل مسیح علیہ السلام کا نام 73 اب آپ کے نام کے متعلق جائزہ لیتے ہیں کہ وہ دراصل کیا تھا؟ کیونکہ اس کے متعلق بھی قرآن کریم کے پیش کردہ اور انجیل کے پیش کردہ نام میں اتفاق نظر نہیں آتا دونوں صحائف کا جائزہ لیتے وقت تاریخی انکشافات اور محققین کی کاوشوں کو مد نظر رکھنا مفید ہوگا تا کہ معلوم ہو سکے کہ دونوں کتب میں سے کس نے اس بارہ میں صحت کا اور انصاف کا خیال رکھا ہے۔قرآن کریم میں مسیح علیہ السلام کا نام یہاں وہ دس آیات قرآن درج کی جاتی ہیں جن میں آپ کا نام آیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ابْنُ مَرْيَمَ إنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ سَيْه اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى (سورة آل عمران آیت (۴۶۔۔۔۔۔ذَلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِ الَّذِي فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ (سورة مريم : آیت ۳۵) إِذْ قَالَ اللهُ يَعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ، إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَن تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا قف وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَةَ وَالْاِ نْجَيْلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِيُّ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِيْ : وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِيْ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِيْ إِسْرَاءِ يْلَ عَنْكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ إِنْ هذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ (سورة المائده آیت ۱۱۱)