حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 47 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 47

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - گا۔47 اُس کا نام یسوع رکھنا۔وہ بزرگ ہوگا۔خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا۔اور خدا وند خدا اس کے باپ داؤد کا تخت اسے دے گا۔اور وہ یعقوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا۔اور اس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا۔مریم نے فرشتہ سے کہا یہ کیونکر ہوگا جبکہ میں مرد کو نہیں جانتی ؟ اور فرشتہ نے جواب میں اس سے کہا کہ روح القدس تجھ پر نازل ہوگا اور خدا تعالیٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی اور اس سبب سے وہ مولود مقدس خدا کا بیٹا کہلائے (لوقا باب اآیت ۲۶ تا ۳۶) (ب) اب یسوع مسیح کی پیدائش اسطرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔پس اس کے شوہر یوسف نے جو راستباز تھا اور بدنام کرنانہیں چاہتا تھا۔چپکے سے اس کے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کے فرشتے نے اسے خواب میں دکھائی دیکر کہا اے یوسف بن داؤد! اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے۔(متی باب ا آیات ۱۸ تا ۲۰) ان قرآنی اور انجیلی بیانات سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش کے متعلق جہاں آپ کی والدہ حضرت مریم کو بشارات ملیں وہاں شمعون نامی بزرگ اور بیابان میں رہنے والے چرواہوں اور مجوسیوں کو اور آپ کے قانونی والد یوسف نجار کو بھی بشارات ملیں۔اور یہ ہی ایک نبی کی شان ہوتی ہے۔ہر دو صحائف میں آپ کو بن باپ قرار دیا گیا ہے اور آپ کی والدہ حضرت مریم کو راستباز ٹھہرایا گیا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ یہودی علماء اور بعض نادان جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں سے نابلد تھے آپ کی پیدائش کو بن باپ نہیں مانتے تھے اور دوسری طرف مبالغہ آرائی کرنے والوں نے آپ کو خدائی سے ہم کنار کر دیا حالانکہ صاف بتایا گیا ہے کہ حضرت مریم