حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 48
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 48 ایک راستباز خاتون تھیں کوئی الہی صفات رکھنے والی ہرگز نہ تھیں کہ آپ کی کوکھ سے خدا کا بیٹا اور پھر خدا جنم لیتا۔آپ کی پیدائش کو بن باپ نہ ماننے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت آدم کی مثال تو بن باپ اور بن ماں کی ہے اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں ہے ایسی پیدائش کی کئی ایک مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں۔اور موجودہ زمانہ کی طبی تحقیقات نے بھی ایسا ہونا ممکن قرار دیا ہے۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا میں ایسی کنوارپنے کی پیدائش کے چند ایک واقعات درج کئے گئے ہیں : یہ کہ: (1) د منچو خاندان جو چین میں حکمران تھا اور جو ء یا کے ء میں آکر تباہ ہوا ہے اس کی بنیاد بھی اسطرح پڑی تھی کہ اس خاندان کی ایک پڑدادی بغیر نکاح کے حاملہ ہوگئی تھی۔لوگوں نے بڑا شور مچایا تھا مگر اس نے کہا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔وہ کسی گڈریا کی بیٹی تھی۔اس نے کہا کہ میں ایک دن اپنے جانور چرا رہی تھی کہ ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے کہا کہ میں تجھ پر خدا کا نور ڈالتا ہوں۔تیرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا اور اس لڑکے کا لڑکا سارے چین کا بادشاہ ہوگا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ مجھے حمل ہو گیا ہے پس اس میں میرا کیا قصور ہے لوگوں نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا کہ یہ عورت آئندہ کی ایک خبر بتا رہی ہے۔انتظار کرو کہ کیا ہوتا ہے چنانچہ 9 ماہ بعد اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گیا۔لوگوں نے کہا کہ اس عورت کی پہلی بات تو سچی ہوگئی ہے۔اب اگلی خبر کا انتظار کرنا چاہئے چنانچہ وہ لڑکا جوان ہوا اور اٹھارہ۔بیس سال کی عمر میں اس کی شادی ہو گئی پھر جلدی ہی اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گیا اور وہ لڑکا پندرہ سولہ سال کا تھا کہ ملک میں فساد شروع ہو گیا چونکہ وہ بہادر تھا اس نے نو جوانوں کو