حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 31
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل الرُّسُلُ، وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ۔ط (سورة المائدة : آیت (۷۶) 31 ترجمہ: اور درحقیقت مسیح ابن مریم صرف ایک رسول تھے اور اس سے قبل کے تمام رسول بھی وفات پاچکے ہیں۔اور اس کی ماں بڑی راستبا رتھی۔وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ ٥ (سورة التحريم: آیت ۱۳) ترجمہ: اور اس نے اس کلام کی جو اس کے رب نے اس پر نازل کیا تھا تصدیق کی تھی اور اسکی کتب پر ایمان لائی تھی۔اور ہوتے ہوتے ایسی حالت کو پہنچ گئی تھی کہ فرماں برداری کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیا تھا۔وَإِذْ قَالَتِ الْمَئِكَةُ يَمَرْيَمُ إِنَّ اللهَ اصْطَفْكِ وَطَهَّرَكِ وَ اصْطَفْكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَلَمِيْنَ۔(سورة آل عمران آیت (۴۳ مندرجہ بالا آیات قرآنیہ سے مندرجہ ذیل امور مستنبط ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ حضرت مریم خاندان عمران کی چشم و چراغ تھیں اور آپ بہت نیک اور صدیقہ تھیں اور آپ حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہونے والے کلام الہی پر چلنے والی فرماں بردار اور اس زمانہ کی تمام خواتین پر فضیلت رکھتی تھیں۔اور آپ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے ساتھ مل کر عبادت کرتی تھیں۔اور ان میں ایک نمایاں مقام رکھتی تھیں۔چنانچہ بخاری کی حدیث کی کتاب میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی رشتہ داری کا حوالہ ملتا ہے۔لکھا ہے: إِنَّ يَحْىٰ وَعِيْسَىٰ هُمَا إِبْنَا الْخَالَة۔کہ یحی او عیسی علیھما السلام خالہ زاد بھائی تھے۔(البخاری باب المعراج از ابو عبید اللہ محمد بن اسماعیل بخاری، مکتبہ رحمانیہ اردو بازار، لاہور )