حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 32 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 32

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل 32 مسلمانوں کے علماء سیر و تاریخ بھی کہتے ہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم کے کفیل بھی اسی لئے بنائے گئے تھے کہ زکریا کی بیوی الیصبات اور والدہ حضرت مریم حنا دونوں حقیقی بہنیں تھیں (ا پا کر فل نیوٹامنٹ از ایم آر جیمس صفحہ ) اور خالہ زاد بمنزلہ والدہ کے ہوتی ہے۔(دیکھیں فتح الباری جلد ۴ صفحه ۳۶۴) دراصل حضرت یحی علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خالہ کے بیٹے تھے۔والدہ کی خالہ کو اولاد بھی خالہ ہی کہتی ہے۔اس لئے مجاز حدیث بخاری میں ا بنا الخالہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔قرآن وحدیث کے ان شواہد کی روشنی میں یہ استنتاج درست ہوگا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خاندان آل عمران کا ایک فرد سمجھا جائے۔کیونکہ آپ کی والدہ کا تعلق آل عمران سے ثابت ہو گیا ہے۔دوسری بات یہ ہے جو بیان ہوئی ہے کہ آپ فرماں بردار، نیک ایماندار اور تمام عورتوں میں ایک فضیلت رکھنے والی خاتون تھیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کو بیان کرنے کی ضرورت کیوں پڑی کہ آپ ایک نیک اور فرماں بردار خاتون تھیں۔اس سوال کا جواب دینے سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ کا پیش کردہ اصول بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں : یادر ہے کہ قرآن شریف یہود اور نصاری کی غلطیوں اور اختلافات کو دور کرنے کیلئے آیا ہے۔اور قرآن شریف کی کسی آیت کے معنی کرتے وقت جو یہود اور نصاری کے متعلق ہوں یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ ان میں جھگڑا کیا تھا۔جس کا فیصلہ قرآن شریف کرنا چاہتا ہے۔(براہین احمدیہ (روحانی خزائن ) ایڈیشن اول جلد پنجم صفحه ۴۱) چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنی تفسیر کبیر زیرآیت: يَأُخْتَ هَرُوْنَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيَّاهِ (سورة مريم: آیت ۲۹)