حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 137 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 137

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 137 کروانے کے ساتھ اپنی صحبت صالح میں رکھ کر انہیں روحانی پرواز کرنے والے پرندے بناتے تھے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ذلِكَ أَدْنَى أَنْ يَأْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا أَوْيَخَافُوا أَنْ تُرَدَّ أَيْمَانٌ : بَعْدَ أَيْمَانِهِمْ ، وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوْا وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِيْنَ اور انجیل میں یوں آیا ہے: (سورة المائدة: آیت ۱۰۹) ”اے یروشلم ! اے پیروشلم ! کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تو نے نہ چاہا۔“ متی باب ۲۳ آیت ۳۷ - لوقا باب ۱۳ آیت ۳۵) آپ نے فرمایا: یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان وزمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شعشہ توریت سے ہرگز نہ ملے گا۔جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے گا پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا تو آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا۔لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے بڑا کہلائے گا کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تمہاری راست بازی فریسیوں کی راست بازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تم آسمان کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہو گے۔“ (متی باب ۲۳ آیت ۲ تا ۴ ) فقیہہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں پس جو کچھ وہ تمہیں بتا ئیں وہ