حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 138
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - سب کرو اور مانولیکن ان سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔وہ ایسے بھاری بوجھ باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں ( متی باب ۲۳ آیات ۲ تا ۴ ) چاہتے۔اے ریا کار و فقیہو ! اور فریسیو! تم پر افسوس کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو دہ یکی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا لازم تھا یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔“ ( متی باب ۲۳ آیت ۲۳) وہ فورا کوڑھ سے پاک صاف ہو گیا۔یسوع نے کہا۔۔۔کا حصن کو دکھا اور جونز رموسیٰ نے مقرر کی ہے اسے گزران تا کہ ان کے لئے گواہی ہو۔“ 138 (متی باب ۸ آیت اتا۴) یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ تم گمراہ ہو اس لئے کہ نہ کتاب مقدس کو جانتے ہو نہ خدا کی قدرت کو “ ( متی باب ۲۲ آیت ۲۹ ، مرقس باب ۱۲ آیت ۲۴) اے استاد تو رات میں کونسا حکم بڑا ہے۔اس نے ان سے کہا خداوند سے اپنے دل اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔بڑا اور پہلا حکم یہی ہے اور دوسرا اس کی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ان دو حکموں پر تمام توریت اور انبیاء کے صحیفوں کا دار ومدار ہے۔( متی باب ۲۲ آیت ۳۶ تا ۴۰ - مرقس باب ۳۰ آیت ۱۳) یوں تو خدا کے کلام کو اپنی روایت سے جو تم نے جاری کی باطل کر دیتے ہواور ایسے کئی کام کرتے ہو اور وہ لوگوں کو پھر پاس بلا کر ان سے کہنے لگا تم سب میری سنو اور سمجھو۔کوئی چیز باہر سے آدمی میں داخل ہو کر نا پاک نہیں کر سکتی مگر جو چیزیں آدمی میں