حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 136
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 136 سبت کے ذکر میں جبکہ آپ کے شاگردوں نے بالیاں توڑ کر کھالیں اور فریسیوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ دیکھ تیرے شاگردوہ کام کرتے ہیں جو سبت کے دن روانہیں تو آپ نے داؤد علیہ السلام کی مثال دی کہ انہوں نے بھوک کی حالت میں مجبور انذر کی روٹیاں کھالی تھیں جو صرف کا ہنوں کیلئے کھانی جائز ہیں۔پھر آپ نے کہا کا ہن سبت کے دن سبت کی بے حرمتی کرتے ہیں اور بے قصور رہتے ہیں اور ہم جو شریعت کے حقیقی ماننے والے اور خادم ہیں، اضطراراً کوئی کام کرتے ہیں تو اعتراض کرتے ہو۔پھر کہا کہ اگر تم اس کے معنے جانتے ہو کہ میں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں تو قصور وار نہ ٹھہراتے۔کیونکہ ابن آدم سبت کا مالک ہے۔یہاں پر سبت کا مالک ہونے سے یہ مراد نہیں لینا چاہئے کہ آپ کے لئے سب کچھ جائز تھا یہاں ابن آدم سے مراد تمام آدام زاد ہیں جیسا کہ مرقس میں اس موقعہ پر یوں لکھا ہے: اس نے ان سے کہا کہ سبت آدمی کیلئے بنا ہے نہ کہ آدمی سبت کیلئے !“ اور یہی اصول ربانیوں کی تحریرات میں ملتا ہے: (مرقس باب ۲ آیت ۲۸) "Sbait is given to you not you are given to sbait" ( انٹر پریٹر کا منٹری آف بائیل مطبوعہ ابینگڈن پرلیس 1971 ء) یہاں پر مسیح علیہ السلام یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سبت کے تمام احکام انسان کو مصیبت میں ڈالنے کیلئے نہیں ہیں۔آپ شریعت کا اصل منشاء بتا رہے ہیں نہ کہ اسے منسوخ کر رہے ہیں۔اناجیل اربعہ میں آپ کی نبوت کا ذکر انا جیل اربعہ میں آپ کی نبوت کی حقیقت بھی یہی بیان ہوئی ہے کہ آپ تو رات کے تابع ایک نبی تھے آپ شریعت موسوی کے سارے حکموں پر ان کی صحیح روح کو قائم رکھتے ہوئے عمل کرواتے تھے اور کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم کو ٹالنا بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔شریعت پر عمل