حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 84 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 84

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 84 ابرا نہیمی کو جو برسوں سے چلا آ رہا تھا اور اس عہد کو جو ابراہیم علیہ السلام نے خداوند سے باندھا تھا بعد کے عیسائیوں نے پس پشت ڈال دیا جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے بھی اپنے عہد کو ان سے پھرا کر بنی اسماعیل کی پشت پناہی فرمائی جیسا کہ تمام مسلمان بھی اسی سنت ابراہیمی کے موافق ختنہ کرواتے ہیں۔حضرت مسیح کی پیدائش کے بعد آپ کے نام رکھنے اور ختنہ اور عقیقہ کے فرائض کسطرح سرانجام دیئے گئے اس کے بارہ میں لکھا ہے کہ: ” جب آٹھ دن پورے ہوئے اور اسکے ختنہ کا وقت آیا تو اس کا نام یسوع رکھا گیا جو فرشتہ نے اس کے پیٹ میں پڑنے سے پہلے رکھا تھا۔پھر جب موسیٰ کی شریعت کے موافق ان کے پاک ہونے کے دن پورے ہو گئے تو وہ اس کو یروشلم میں لائے تا کہ خداوند کے آگے حاضر کریں جیسا کہ خداوند کی شریعت میں لکھا ہے کہ ایک پہلوٹا خداوند کے لئے مقدس ٹھہرے گا اور خداوند کی شریعت کے اس قول کے موافق کریں کہ قمریوں کا ایک جوڑ ایا کبوتر کے دو بچے لاؤ۔(لوقا باب ۲ آیت ۲۱ تا ۲۵)