حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 85 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 85

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل باب سوئم حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات جوانی 85 55 انبیاء علیھم السلام کی زندگی یوں تو ساری کی ساری ہی مثالی ہوتی ہے کیا بچپن اور کیا جوانی ان کی زندگی کے تمام ادوار خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق گزرتے ہیں اسی لئے یہ مثل مشہور ہے کہ النَّبِيُّ نَبِيٌّ وَلَوْ كَانَ صَبيا اور اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے : در جوانی توبه کردن شیوه پیغمبری وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیز گار جوانی کا زمانہ انبیاء کی بعثت کا زمانہ ہوتا ہے جبکہ وہ اپنے نیک اخلاق سے دنیا کا دل موہ لیتے ہیں اور اپنے پرائے سب نیک اطوار پر شاہد ہوتے ہیں اور یہی شہادتیں بعد میں ان کی نبوت کی سچائی کی دلیل بن جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: قُلْ لَّوْشَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَكُمْ بِهِ سِي فَقَدْ لَبِثْتُ صلے فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ، أَفَلَا تَعْقِلُوْنَه (سورة يونس: آیت (1) ترجمہ: (اور ) تو (انہیں) کہہ دے کہ اگر اللہ کی ( یہی ) مشیت ہوتی ( کہ اس کی جگہ کوئی اور تعلیم دی جائے ) تو میں اسے تمہارے سامنے پڑھ کر نہ سنا تا اور نہ وہ (ہی) تمہیں اس (تعلیم) سے آگاہ کرتا۔چنانچہ اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں کیا پھر ( بھی ) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔