حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 83
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔83 وہ ” ناصری کہلائے گا پورا ہو حالانکہ تمام عہد نامہ قدیم چھان مارو ا سطرح کی پیشگوئی کسی نبی کی ”نقر“ معرفت بیان شدہ کہیں نہیں ملتی۔ہوسکتا ہے کہ متی کے انجیل نویسی کے ذہن میں یہ ہو کہ عبرانی میں کو نیل کو کہتے ہیں۔اور یہ کہا گیا تھا کہ داؤد کے گھرانے سے ایک تر و تازہ شاخ پھوٹے گی۔شاید تر و تازہ جسے عبرانی میں نَضَرہ کہتے ہیں کو ناصرہ بنادیا گیا ہے۔یا پھر قاضیوں باب ۱۳ آیت ۵ کے الفاظ ہیں کہ وہ خدا کا نذیر ہوگا جو نذر سے نکلا ہے ہو سکتا ہے اس کو نصر یا ناصری بنادیا گیا ہو۔حقیقت یہ ہے کہ ناصرہ ایک نامعلوم اور غیر معروف جگہ تھی جیسا کہ لکھا ہے: کہ کیا ناصرہ سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے۔“ (یوحنا باب اوّل آیت ۴۶) اور عہد نامہ قدیم میں کسی نبی کی معرفت بھی یہ نہیں کہا گیا تھا کہ آنے والا مسیح ناصری کہلائے گا۔مسیح علیہ السلام کا ختنہ و عقیقہ اور یروشلم کی طرف پہلا سفر شریعت موسویہ میں لکھا ہے: اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور اسکے لڑکا ہو تو وہ سات دن نا پاک رہے گی جیسے حیض کے ایام میں رہتی ہے۔اور آٹھویں دن لڑکے کا ختنہ کیا جائے۔۔۔جس عورت کے ہاں لڑکا یا لڑکی ہو اس کے بارے میں شرع یہ ہے کہ اگر تو اس کو برہ لانے کا مقدور نہ ہو تو وہ دوقمریاں یا کبوتر کے دو بچے ایک سوختنی قربانی کیلئے اور دوسرا خطاء کی قربانی کیلئے لائے۔“ (احبار باب ۱۲ آیت ایک تا۸) پس اس شریعت کے مطابق مسیح علیہ السلام کا ختنہ ہوا اور عقیقہ بھی ہوامگر افسوس کہ اس اسوہ