حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 42
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 42 بیت الم کے گاؤں سے ظاہر ہو۔مسیح چونکہ لوگوں کے نزدیک گلیل کے گاؤں ناصرہ سے ظاہر ہوا اور نہ داؤد کی نسل سے ہی تھا اس لئے لوگ معترض ہوئے اور کہا کہ یہ مسیج کیسے ہو سکتا ہے۔متی میں لکھا ہے کہ مسیح کے عقیدت مندوں نے جب آپ کا جلوس نکالا تو ابن داؤد کے خطاب سے آپکو پکارا۔(۲۱ باب ۹ آیت) لیکن مرقس میں جو کہ قدیم ترین انجیل ہے۔اس واقعہ کے بیان میں ابن داؤد کا خطاب موجود نہیں۔( باب ۹:۱۱ آیت) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بعد کی اختراع اور ایجاد ہے۔اب یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ از روئے انجیل آپ آل داؤد کی بجائے آل عمران سے تھے۔اور یہی عام لوگ آپ کے متعلق سمجھتے تھے۔قرآن کریم بھی آپکو آل عمران ہی قرار دیتا ہے۔اور حواری بھی آپ کو ابن مریم کہ کر پکارتے تھے۔حضرت مسیح ناصری گلیل کے علاقہ میں بود و باش رکھتے تھے۔اور اس علاقہ میں ماہی گیری ایک اہم پیشہ تھا۔اکثر حواری ماہی گیر تھے۔اور یسوع نے انہیں کہا تھا کہ آؤ میں تمہیں آدم گیر بنادوں۔لیکن انجیل کے بیان کردہ ان کے قانونی باپ یوسف نجاری کا کام کرتے تھے۔اس لئے آپ کو نجار کہ دیا گیا ہے اور یہ کوئی بعید بھی نہیں کہ آپ نے اپنے قانونی والد یوسف کا ہاتھ بٹانے کیلئے یہ پیشہ بھی اختیار کیا ہو۔جیسے کہ لکھا ہے: " کیا یہ وہی بڑھئی نہیں جو مریم کا بیٹا اور یعقوب اور یوسیس اور یہودہ اور شمعون کا بھائی ہے۔‘“ (مرقس باب ۶ آیت ۳)