حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 43 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 43

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل باب دوئم حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش 43 انبیاء کرام جو آسمان روحانیت کی رفعتوں میں چمکنے والے ستارے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے نظر انسانی امید کا پیغام حاصل کرتی ہے اور فکر انسانی دعوت عمل کی راہ متعین کرتی ہے اور جب ذات خداوندی اپنی قدرت کاملہ کے تحت ہدایت انسانی کیلئے انکی بعثت مقدر کرتی ہے تو سماء د نیا پر بھی تمثیلی رنگ میں ایسے نجوم ابھر آتے ہیں جو انزال رحمت خداوندی کی نشاندہی کرتے ہیں، اور اسطرح سے یہ وجود جہاں ایک طرف طاغوتی قوتوں کیلئے اجل کا پیغام بن جاتے ہیں وہاں ملکوتی طاقتوں کے لئے رحمت کا نشان ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الْحَقُّ سَنُرِيهِمْ آيَتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ (سورة حم السجده : آیت ۵۴) ترجمہ: پس ہم ضرور انہیں آفاق میں بھی اور اُن کے نفوس کے اندر بھی اپنے نشانات دکھائیں گے یہاں تک کہ اُن پر خوب کھل جائے کہ وہ حق ہے۔پس یہ الہی سنت ہے کہ انبیاء کی صداقت ظاہر کرنے کیلئے آفاقی نشانات ظاہر کئے جاتے ہیں چنانچہ اس کے مطابق جب حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا زمانہ قریب آیا تو مشرق میں ایک ستارہ دیکھا گیا۔لکھا ہے: