حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 41 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 41

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل اہمیت دیتے تھے۔“ 41 اسی طرح کنسائزہ تفسیر بائیل میں مرقس ۳۵ آیت ۱۲ صفحہ ۶۹۶ پر لکھا ہے: اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یسوع نے ابن داؤد کا لقب اختیار نہیں کیا۔بلکہ اس کو رڈ کیا یا پھر یہ صورت ہو سکتی ہے کہ یسوع نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کو داؤد کی نسل سے ایک بادشاہ ثابت کرنا ایک مشکل امر ہے۔یسوع کا استدلال یہ ہے کہ اگر مسیح موعود داؤد کا بیٹا ہے تو داؤد نے آنے والے مسیح کو اپنا آقا اور خداوند کیوں کہا ہے۔۔۔یہ امر بھی نہایت قابل توجہ ہے کہ مرقس باب ۱۱ آیت ۱۰ کی رو سے مسیح کے عقیدت مند لوگ آپ کی آمد کو ہمارے باپ داؤد کی بادشاہت کا ظہور قرار دیتے ہیں۔لیکن یہ نہیں کہتے کہ یسوع ابن داؤد ہے۔66 (Concise Bible Commentary By The Rewerend W۔K Clark۔page 195 published by Macmillan 1953) ان مذکورہ بالا حوالوں سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ شارحین بائیبل بھی مرقس کے اس مقام کی شرح میں بالکل بے بس ہو کر رہ گئے ہیں اور یہ ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اس بات کا اظہار کریں کہ حضرت مسیح نے ابن داؤد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔اور یوحنا کے ایک حوالہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بھی آپکو آل داؤد سے نہ سمجھتے تھے۔جیسا کہ لکھا ہے: و بس بھیڑ میں سے بعض نے یہ باتیں سن کر کہا بے شک یہی وہ نبی ہے اور وں نے کہا یہ مسیح ہے۔بعض نے کہا کیوں؟ کیا مسیح گلیل سے آئے گا۔کیا کتاب مقدس میں یہ نہیں آیا کہ مسیح داؤد کی نسل اور بیت لحم کے گاؤں سے آئے گا جہاں کا داؤ د تھا۔“ (یوحنا باب ۷ آیت ۴۰ تا ۴۲) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کیلئے یہ لازم سمجھا جاتا تھا کہ وہ داؤد کی نسل سے ہو اور