حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 202 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 202

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔202 بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہوتی ہے جیسا اسمیں آگے چل کر لکھا ہے وہ دہی اور شہد کھائے گا اب مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ ثابت نہیں کہ آپ دہی اور شہد کھایا کرتے تھے بلکہ شہد تو آنحضرت ﷺ کی مرغوب غذا تھی اور اسی طرح دودھ دہی بھی آپ ہی استعمال کرتے تھے۔انا جیل میں مسیح کے متعلق تو صرف سرکہ، شراب ، مچھلی اور روٹی کا ذکر ہی ملتا ہے۔آپ کی الوہیت کے ثبوت میں آپ کا ایک قول پیش کیا جاتا ہے جو آپ نے اپنے مخالفین کو کہا تھا کہ تم نیچے سے ہو اور میں اوپر سے ہوں تم اس جہان کے ہو میں اس جہان کا نہیں۔اس فقرہ کے معنی بالکل صاف ہیں کہ اے یہود یو! میں نبی ہوں میرے علوم آسمانی ہیں تم زمینی علوم پر تکیہ کرتے ہوتم میرا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہو۔یہ ایک عام محاورہ ہے ہم ایک شخص کو زمینی یا د نیا دار کہ دیتے ہیں اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ یہ شخص خدا سے تعلق نہیں رکھتا ہے بلکہ دنیا سے محبت کرتا ہے اسی طرح مسیح علیہ السلام نے بھی یہودیوں کو کہا کہ میں تمہاری طرح تقلیدی علوم کا اور زمینی فنون کا وارث نہیں بلکہ آسانی علوم کا وارث ہوں اسی فقرہ سے مسیح علیہ السلام کی الوہیت یوں بھی ثابت نہیں ہوتی کیونکہ آپ نے تمام حواریوں کو بھی اپنے ساتھ شامل فرمایا ہوا ہے چنانچہ مسیح علیہ السلام نے ایک جگہ پر حواریوں کے متعلق خدا سے دعا میں عرض کیا: اس لئے کہ جیسا میں دنیا کا نہیں ہوں وے بھی دنیا کے نہیں ہیں۔“ ( یوحناباب ۱۷ آیت ۱۴) پھر ایک جگہ حواریوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں : اس لئے کہ دنیا کے نہیں ہو۔“ ( یوحنا باب ۱۵ آیت ۱۹) پس اس فقرہ میں تو مسیح علیہ السلام کا کوئی امتیاز نہ رہا بلکہ تمام حواری بھی آپ کی الوہیت میں شریک ہو گئے۔مسیح علیہ السلام نے کہا: میں اور باپ ایک ہیں۔میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے۔