حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 201
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 201 پاتے ہیں نیز خدا کی ایسی معیت صرف مسیح کی کوئی ایسی خصوصیت نہیں بلکہ حضرت یعقوب کو مخاطب کر کے خدا فرماتا ہے ( پیدائش باب ۲۸ آیت (۱۵) انی ایماخ میں تیرے ساتھ ہوں۔اگر متی کے اس حوالے سے اس رنگ میں استنباط الوہیت مسیح کے حق میں کیا جائے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ ہمارا خدا ہے جو ہمارے ساتھ ہے تو یہ سراسر تحریف ہے۔کیونکہ جو حوالہ یسعیاہ کا متی نے دیا ہے اس میں اس کا نام رکھیں گے۔کے الفاظ ہیں۔اور جس رنگ میں متی نے پیش کیا ہے کہ لوگ اس کا نام رکھیں گے یہ بات یسعیاہ کے حوالے میں کہیں موجود نہیں ہے۔اگر فرض بھی کر لیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح پر منطبق ہوگئی تب بھی یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ وہ خدا یا خدا کا بیٹا تھا ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پیشگوئی ہی سرے سے آپ پر چسپاں نہیں ہوتی جس کی کئی ایک وجوہات تھیں : اول : میسیج کی والدہ نے آپ کا نام عما نویل نہیں رکھا۔اگر معنوی رنگ میں چسپاں کریں تو مسیح نے خود کہا ایلی ایلی لما سبقتانی۔اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔(مرقس ۱۵ آیت ۳۴) ہاں یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر معنوی رنگ میں ضرور پوری ہوئی جنہوں نے اس وقت ، جب بڑے بڑے جری گھبرا جاتے ہیں، اپنے ساتھی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غار ثور میں فرمایا جس کا کلام پاک میں یوں ذکر آتا ہے : لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔غم مت کر یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔(سورة التوبه: آیت (۴۰) دوئم:۔یسعیاہ نبی کی کتاب میں عبرانی زبان میں جو لفظ ہے ( هــا عــلـمـه ) ہے اور یہ لفظ کنواری غیر کنواری نو جوان عورت پر بولا جاتا ہے۔اور عربی زبان میں وہاں اس کا ترجمہ ( مشاة ) جوان عورت کے کئے گئے ہیں۔پس یہ پیشگوئی مسیح علیہ السلام پر سرے سے چسپاں ہی نہیں ہوتی