حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 203
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 203 ان الفاظ میں بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل محبت کا اظہار ہے اگر اس فقرہ سے مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا ثبوت نکالا جاتا ہے تو حواریوں کے متعلق بھی سفارش کرتے ہوئے مسیح علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حضور کہتے ہیں: تا کہ وہ سب ایک ہو جائیں جیسا کہ اے باپ تو مجھ میں ہے اور میں تجھ سے ہوں کہ وہ بھی ہم میں ایک ہوں۔( یوحنا باب ۱۷ آیت ۲۱ تا ۲۳) اب اگر ایک ہو جانے کے لفظ سے کوئی خدا ہوسکتا ہے تو تمام حواری بھی خدا ہونے چاہئیں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک اور جگہ فرمایا ہے: اُس روز تم مانو گے کہ میں اپنے باپ میں ہوں اور تم مجھ میں اور میں تم میں جس کے پاس میرے حکم ہیں اور وہ ان پر عمل کرتا ہے وہی مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ میرے باپ کا پیارا ہوگا۔“ ( یوحنا باب ۱۴ آیت ۲۱) پس محبت کے ساتھ تمام احکام الہی کے مطابق اعمالِ صالحہ بجالا نا ہی خدا میں ہونا ہوتا ہے اور یہ بات انتہائی قرب پر دلالت کرتی ہے نہ کہ خدائی پر۔۔۔۔انجیل کا یہ حوالہ کہ: میں خدا سے نکلا ہوں تو مجھ سے پیدا ہوا۔( یوحنا باب ۸ آیت ۲۴) ( عبرانیوں باب 1 آیت ۵) پیش کر کے بھی مسیح علیہ السلام کی خدائی ثابت کی جاتی ہے پورا حوالہ سامنے رکھا جائے تو مسیح علیہ السلام کے خدا سے نکلنے کی تشریح مسیح کی زبانی صفات ارسال مرسلین کا اظہار ہے جیسا کہ لکھا ہے: ”اگر خدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھ سے محبت رکھتے اس لئے کہ میں خدا سے نکلا اور آیا ہوں کیونکہ میں آپ سے نہیں آیا بلکہ اس نے مجھے بھیجا۔“ نیز مندرجہ ذیل اقتباسات بھی ملاحظہ فرماویں: