حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 153 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 153

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 153 انگوری باغ والی تمثیل میں (لوقا باب ۲۰ آیات ۹ تا ۱۸) کہا گیا ہے کہ خدا کے بیٹے کو اس وجہ سے بھیجا گیا ہے تا کہ وہ حجبت تمام کرے اور نکموں کو سزادے۔یہ بات مسیح کے پہلے قول کے بالکل الٹ ہے۔متی کا ایک حوالہ تو یہ بتاتا ہے کہ صلح کرانے کی وجہ سے انسان کو خدا کا بیٹا کہلانے کا حق ہوتا ہے اور دوسرے میں یہ بتاتا ہے کہ یہ وجہ مسیح میں نہیں تھی اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مسیح خدا کے بیٹے نہ تھے۔پس جاننا چاہے کہ مسیح علیہ السلام نے جہاں اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا ہے تو اسی محاورہ کے مطابق اور انہی معنوں میں جن میں یہ استعمال ہوتا تھا تبھی مسیح نے اپنے آپ کو آدم کا بیٹا بھی قرار دیا ہے جیسا کہ لکھا ہے: ☆ ☆ ابن آدم اس لئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لئے کہ خدمت کرے۔( متی باب ۲۰ آیت ۲۸) جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابن آدم کے وقت ہوگا۔( متی باب ۲۴ آیت ۳۸) جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہو گا ابن آدم آجائے گا۔(متی باب ۲۴ آیت ۴۰) فانی خوراک کیلئے محنت نہ کرو بلکہ اس خوراک کیلئے جو ہمیشہ کی زندگی تک باقی رہتی ہے جسے ابن آدم دے گا۔☆ ☆ ( یوحنا باب ۶ آیت ۲۷) یسوع نے کہا جب تم ابن آدم کو اونچے پر چڑھاؤ گے تو جانو گے۔(یوحنا باب ۸ آیت ۲۸) اے یہوداہ کیا تو بوسہ لیکر ابن آدم کو پکڑوا تا ہے۔(لوقا باب ۲۲ آیت ۴۸) ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام جب آئے تب بھی ابن آدم تھے جب دوبارہ آئیں گے تب بھی ابن آدم ہوں گے۔جب صلیب پر لٹکایا گیا تب بھی ابن آدم تھے پس جب مسیح علیہ السلام اپنے آپ کو ابن آدم کہتے ہیں تو خدا کے بیٹے کے ایسے معنی کرنا جو تورات اور