حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 152
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل ☆ ☆ آدم خدا کا بیٹا۔اسرائیل خدا کا بیٹا۔(لوقا باب ۳ آیت ۳۸) خروج باب ۴ آیت ۲۲) افرائیم خدا کا پلوٹھا بیٹا ہے۔( یرمیاہ باب ۳۱ آیت ۲۰) داؤد خدا کا بڑا بیٹا ہے۔(زبور باب ۸۹ آیت (۲۶) ہ سلیمان خدا کا فرزند ہے۔( تاریخ اول باب ۲ آیت ۹-۱۰) تمام بنی اسرائیل خدا کے بیٹے۔(استثناء باب ۱۴ آیت ۹) ☆ تمام یہودی خدا کے بیٹے۔( یوحنا باب ۸ آیت ۴۳) 152 تم اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور بھلا کرو اور بغیر ناامید ہوئے قرض دو تو تمہارا بڑا اجر ہوگا اور تم خدا کے بیٹے ٹھہر وگے۔☆ (لوقا باب ۶ آیت ۳۶) جو لوگ اس لائق ٹھہریں گے کہ اس جہان کو حاصل کریں۔۔۔۔فرشتوں کے برابر ہوں گے اور قیامت کے فرزند ہو کر خدا کے بھی فرزند ہوں گے۔(لوقا باب ۲۰ آیت ۳۶) ☆ تم نور کے بیٹے ہو۔(تھسلمینکوں نمبر 1 باب ۵ آیت ۵) جن معنوں میں اوپر کے حوالوں میں نیک بندوں کو بیٹا کہا گیا ہے انہی معنوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی انجیل میں بیٹا کہا گیا ہے مثلا لکھا ہے: ☆ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔(مرقس باب اآیت (1) ایک اور تمثیل سنو۔آخر اس نے اپنے بیٹے کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے۔( مرقس باب ۱۲ آیت ۶۔۷) خدا نے اپنے بیٹے کو اس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کاحکم کرے بلکہ اس لئے کہ دُنیا اس کے وسیلہ سے نجات پائے۔( یوحنا باب ۳ آیت ۱۷) اس حوالہ میں مسیح کا خدا کا بیٹا کہلانے کی وجہ اُس کا دُنیا کو نجات دینا قرار دیا گیا ہے لیکن