حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 154
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 154 انجیل کی تعلیم اور محاورہ کے خلاف ہو ہرگز درست نہیں ہوسکتا۔ایک طرف انا جیل میں مسیح علیہ السلام کو ابن اللہ کہا گیا ہے اور دوسری طرف حضرت مسیح علیہ السلام اپنے آپ کو ابن آدم کہتے ہیں اس کا حل صرف یہ ہی ہو سکتا ہے ایک بیان کو اصل اور دوسرے کو استعارہ مانا جائے۔آپ اگر ابن آدم کو استعارہ مانیں تو ابن اللہ کو اصل ماننا پڑے گا۔اور اگر ابن اللہ کو استعارہ مانیں تو ابن آدم کو اصل ماننا پڑے گا اور یہ حقیقت بھی واضح ہو جائے گی کہ اسطرح سے خدا کے بیٹے کی قربانی پر جو کفارہ کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ بھی ساری کی ساری باطل اور بے بنیاد ہو جاتی ہے۔اب ہم جائزہ لیتے ہیں اور اس نقطہ نگاہ سے انجیل کو دیکھتے ہیں۔ہمیں انجیل میں مسیح کے یہ الفاظ ملتے ہیں: ”مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔“ ( متی باب ۵ آیت ۹) یہاں حضرت مسیح علیہ السلام اپنے سوا دوسرے انسانوں کو بھی خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا بیٹا کہنا انجیل کا محاورہ ہے اور اس سے انسان خدا انہیں بن جاتا۔اگر کسی کو خدا کا بیٹا ماننے سے اس میں خدائی بھی ماننی پڑتی ہے تو وہ تمام لوگ جو صلح کراتے ہیں اس حوالہ کے مطابق خدائی کے دعویدار بن سکتے ہیں اور تمام کے تمام کفارہ دینے کے قابل ٹھہرتے ہیں اور مسیح علیہ السلام کا کوئی امتیاز نہیں رہتا بلکہ اس حوالہ میں خدا کا بیٹا کہلانے کی وجہ بھی بتائی گئی ہے اور یہ وجہ متی باب ۱۰ کے ایک حوالے کی رو سے مسیح علیہ السلام میں نہیں پائی جاتی مسیحی پادری غور فرماویں کہ اسطرح تو مسیح علیہ السلام کے خدا کے بیٹے ہونے کی صاف نفی پائی جاتی ہے جیسا کہ لکھا ہے: ہوں۔66 یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ( متی باب ۱۰ آیت ۳۴)