حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 139
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔سے نکلتی ہیں وہی چیز میں آدمی کو نا پاک کرتی ہیں کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے برے خیالات نکلتے ہیں حرام کاریاں۔چوریاں خونریزیاں۔لالچ بدیاں زنا کاریاں۔مکر شہوت پرستی۔بد نظری بدگوئی شیخی بیوقوفی یہ سب باتیں اندر سے نکل کر آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔“ ( مرقس باب ۷ آیت ۱۳ تا ۲۳) تو حکموں کو جانتا ہے خون نہ کر۔زنانہ نہ کر۔چوری نہ کر۔جھوٹی گواہی نے دے۔فریب دیگر نقصان نہ کر۔اپنے باپ اور ماں کی غیرت کر اس نے کہا اے استاد میں نے لڑکپن سے ہی ان سب پر عمل کیا۔یسوع نے اس پر نظر کی اور اسے اس پر پیار آیا۔( مرقس باب ۱۰ آیت ۲۰ تا ۲۱) میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوڑی کوڑی ادا نہ کرے گا وہاں سے ہرگز نہ چھوٹے گا۔“ ( متی باب ۵ آیت ۲۶) 139 پہاڑی وعظ میں مسیح علیہ السلام نے نہ صرف موسیٰ کی شریعت کی پابندی پر زور دیا بلکہ اس سے بڑھ کر خون ریزی ، زنا کاری قسم خوری، انتقام لینے ، عداوت ، راست بازی، خیرات ، دعا، روزہ تو کل علی اللہ اور عیب جوئی وغیرہ کی تشریح کی ہے اور شریعت کے باغی کو یہ کہا ہے: بہتیرے مجھ سے کہیں گے۔اے خداونداے خداوند اس وقت میں ان سے صاف کہوں گا میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی اسے بدکارو ! میرے پاس سے چلے جاؤ۔پس جو کوئی میری یہ باتیں سنتا ہے اور ان پر عمل بھی کرتا ہے وہ اس عقل مند آدمی کی مانند ٹہرے گا جس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اس کے گھر پر ٹکرا ئیں لیکن وہ گر انہیں کیونکہ اس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی اور جو میری یہ باتیں سنتا ہے اور عمل نہیں کرتا وہ اس بے وقوف آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے اپنا گھر ریت پر بنایا اور مینہ برسا۔پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اُس گھر کو صدمہ پہنچا