حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 140 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 140

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔اور وہ گر گیا اور بالکل برباد ہو گیا۔“ آسان ہے۔66 ( متی باب ۷ آیت ۲۲ تا ۲۷ ) آسمان اور زمین کا ٹل جانا شریعت کے ایک نکتہ کے مٹ جانے سے (لوقا باب ۱۶ آیت ۱۷) 140 انا جیل اربعہ کے ان مقامات کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو رات یا نبیوں کی کتابوں کا کچھ منسوخ کرنے نہیں آئے تھے بلکہ ان احکامات کی حکمتیں لوگوں کو بیان فرما کر ان سے ان پر عمل کرانے آئے تھے۔جیسا کہ مثلاً پہاڑی وعظ میں آپ نے حکموں کی حکمتیں بتا کر انہیں مزید شدت پیدا کر دی تا کہ صرف الفاظ کی پیروی کرنے کی بجائے ان احکام کی روح کو مدنظر رکھا جائے تاکہ اس کے نتیجہ میں آپ کو ماننے والے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکیں اور ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو سکے۔اور انجیلی زبان میں یہ کہ وہ خدا کی بادشاہت میں شامل ہو سکیں اور خدا کی بادشاہت یہ ہے کہ جسم وروح پر خدا تعالیٰ کے احکامات جاری ہوں اور وہ ان احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔جیسا کہ آپ نے ایک فریسی کے سوال پر کہ خدا کی بادشاہت کب آئے گی جواب دیا کہ: ” خدا کی بادشاہت ظاہری طور پر نہ آئے گی اور لوگ یہ نہ کہیں گے کہ دیکھو وہ یہاں ہے یا وہاں بلکہ دیکھو خدا کی بادشاہت تمہارے درمیان میں ہے۔“ (لوقا ۱۷ آیت ۲۰) پھر آپ نے ہر چھوٹے سے چھوٹے شریعت کے حکم پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور فرمایا کہ جب تک تمہاری اطاعت اور راست بازی فقیہوں اور فریسیوں کی راست بازی سے زیادہ نہیں ہوگی تو تم خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہ ہو سکو گے اور جب تک اپنے اندر یہ روحانی انقلاب نہ پیدا کرسکو گے اس کے انعامات کے وارث نہیں ٹھہر سکو گے۔پھر آپ نے فرمایا کہ بے عمل فقیہی اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں جو شریعت کے احکامات وہ تمہیں بتا ئیں ان پر عمل کرنا تمہارا