حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 30
30 کے لئے اپنے اور اپنے تمام ہم عصر علماء کے متفقہ عقیدہ کے برعکس صاف خونی مہدی کے ظہور سے انکار کر دیا۔مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 101 تا 114 ) گو ہمارے نزدیک یہ سید نا حضرت مسیح موعود کے عظیم الشان اُسلوب جہاد کا اعجاز ہی تھا کہ اہل حدیث کا ایسا کھڑ اور کج راہنما، خواہ حکومت سے حصولِ جاگیر کے لئے ہی سہی ، خونی مہدی اور مسیح کے عقیدہ سے منحرف ہو کر حضرت مسیح موعود کے زبر دست علم کلام کے سامنے سر اطاعت خم کرنے پر مجبور ہو گیا۔والحق ما شهدت به الاعداء یہاں ہم ایک انتہائی اہم جائزہ پیش کرنا چاہتے ہیں یہ جائزہ سیرۃ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم مؤلفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور سیرۃ النبی از جناب شبلی نعمانی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ہم سب کا ایمان ہے کہ جہاد سے متعلق عظیم الشان پر حکمت تعلیم شارع اسلام سیدی مکی و مدنی سرکار دو عالم فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مطہر پہ نازل ہوئی اور جہاد کا سب سے اعلیٰ اور اکمل اور ارفع عرفان ہمارے سید ومولا کونصیب ہوا اور آپ ہی نے اپنے پاک نمونہ سے شریعت حقہ کے اس حکم پر عمل فرما کے امت کے لئے ہمیشہ کے لئے ایک حسین قابل تقلید اسوہ حسنہ کی بنیا درکھی۔ایک فہیم انسان یہ جان کر حیرت و استعجاب کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے کہ وہ جہاد جس کی طرف آج ساری امت کو علمائے اسلام بڑے شد و مد سے دعوت دے