حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 31
31 رہے ہیں یعنی جہاد بالسیف۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہاد میں بنفس نفیس اپنی 63 سالہ زندگی میں صرف 126 یوم شریک ہوئے۔اور اس جہاد بالسیف کی غرض سے آپ نے 290 ایام تک سفر کیا۔گویا 22 ہزار چھ صد اسی (22680) دنوں میں سے آپ کل 126 دن جہاد بالسیف میں مصروف رہے۔اگر 63 سال کی جگہ دعوی کے بعد کی 23 سالہ زندگی کے دن شمار کریں تو ان کی تعداد 8395 کے قریب بنتی ہے۔اب اگر سرکار دو عالم ساری زندگی میں صرف 126 دن عملاً جہاد بالسیف کریں اور جہادی علماء کی ایک ہی رٹ ہو کہ جہاد بالسیف کے لئے کفن سروں سے باندھ لو اور ساری عمر ماردھاڑ کرتے پھرو، غیر نہ ملیں تو اپنوں ہی کی مسجدوں اور امام بارگاہوں پر قسمت آزمائی کرو۔تو غور کیجئے کہ اس اسلوب جہاد کو ہمارے سید ومولا صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد سے کیا نسبت ہے؟ اس تاریخی جائزہ پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جہاد بالسیف کو جہاد اصغر قرار دیا تو یہ کوئی فرضی یا جذباتی بات نہ تھی۔آپ تو ہمیشہ وحی الہی کی روشنی میں کلام فرما یا کرتے تھے۔چنانچہ 63 سالہ زندگی میں آپ نے 126 یوم جہاد بالسیف کیا اور 290 یوم اس جہاد کی خاطر سفر اختیار کیا اور باقی ساری زندگی یعنی 22264 ایام میں آپ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ ( سورة الجمعه 62 : 3)