حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ — Page 22
اور سر بر آوردہ شخصیتوں کے قلوب و اذنان پر اسلام کا سکہ بٹھا دیا۔آپ نے قطعی اور یقینی دلائل و براہین سے ثابت کر دکھایا کہ شرف انسانیت کے حقیقی علمبردار اور پوری انسانیت کے محسن اعظم اور رحمۃ للعالمین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات مقدس ہے اور یہ کہ صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے اور مستقبل میں رونما ہونے والی عالمگیر تباہی سے نجات کی صرف یہ صورت ہے کہ تمام اقوام عالم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آجائیں۔آپ نے ۱۴ اگست ۱۹۸۰ء کو لنڈن کی ایک پر ہجوم کا نفرنس میں اسلام کا شاندار اور کامیاب دفاع کرتے ہوئے دین مصطفیٰ کے بینظیر فضائل ومحاسن بیان فرمائے تو اخبار کے ایک رپورٹر نے پوچھا کہ یورپ کب اسلام قبول کرے گا ؟ اس پر حضور نے جو شاندار جواب زیادہ انگلستان کی فضاؤں میں ہمیشہ گو نجتا رہے گا۔حضور نے فرمایا :- دو تم لوگ مہلک ہتھیا رہی جمع نہیں کر رہے بلکہ مسائل کے انبار بھی لگا رہے ہو۔تمہارے مسائل بڑھتے ہی چلے جاہ ہے ہیں اور تمہیں ان کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ایک وقت آئے گا کہ تم مسائل کے حل کی تلاش میں اندھیرے میں ٹکریں مار رہے ہو گے اور ہر طرف راستہ مسدود پاؤ گے وہ وقت اسلام کا ہوگا اور میرے لئے موقع ہوگا کہ میں اسلام کی روشنی تمہارے سامنے پیش کروں۔اُس وقت تم خود بخود اسلام کی طرف کھینچنے چلے آؤ گئے ہیں اس وقت کا منتظر ہوں اور وہ وقت ضرور آئیگا لے ه :- دوره مغرب کویر PAL