حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 4 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 4

5 بیماری اور خلافت کی برکت سے شفاء ابھی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب بہت چھوٹے تھے کہ بیمار ہو گئے۔خلافت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا دی۔آپ کی ایک والدہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ بیان فرماتی ایک دعائیہ نظم بھی لکھی جو پڑھ کر سنائی گئی۔ایک شعر یہ ہے۔میرا ناصر میرا فرزند اکبر ملا ہے جس کو حق سے تاج و افسر قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد آپ کو دینی علوم کی تحصیل کے لئے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہیں کہ حضرت مصلح موعود کو حضرت خلیفہ اول سے بہت محبت تھی اور خلافت کا بے انتہا احترام تھا کروایا گیا۔مدرسہ احمدیہ کی تعلیم مکمل کر کے آپ جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔1929ء میں اور یہی سبق آپ نے اپنی اولا د کو دیا۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو ایک خط میں یہ واقعہ لکھا اور پنجاب یونیورسٹی سے ”مولوی فاضل“ کی ڈگری حاصل کی اور پنجاب بھر میں تیسری پوزیشن لی۔میں نے خود آپ سے سنا بھی ہوا ہے۔فرمایا کہ جب مرزا ناصر احمد چھوٹے سے تھے شاید سال اس وقت آپ کی عمر 20 سال کی تھی۔مولوی فاضل کرنے کے بعد آپ نے 1930ء میں ڈیڑھ سال کی عمر تھی تو بہت بیمار ہو گئے اور ادھر حضرت خلیفہ اول بیمار ہو گئے تو آپ اپنے بچہ کو میٹرک کا امتحان پاس کیا۔چھوڑ کر حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہو گئے بچہ کی حالت نازک ہوگئی گھر سے آدمی بچپن میں خدمت دین کی تڑپ بلانے آیا آپ نہیں گئے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے علم میں آیا تو آپ نے کہا جاؤ بچہ کے پاس۔علاج وغیرہ بھی بتایا۔آپ نے فرمایا میاں ! وہ صرف تمہارا بیٹا ہی نہیں حضرت مسیح موعود کا 66 پوتا بھی ہے۔اس پر آپ گئے۔اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا اور مرزا ناصر احمد صحت یاب ہو گئے۔“ (ماہنامہ مصباح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نمبر دسمبر 1982ء جنوری 1983 صفحہ 35) حفظ قرآن اور ابتدائی تعلیم آپ نے خود ایک مرتبہ فرمایا: میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنے بچپن کے زمانہ میں جذبہ خدمت کے نہایت حسین نظارے دیکھے ہیں۔ہم نے بچپن کی عمر میں بھی یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری چند گھنٹے کی ڈیوٹیاں لگیں گی۔۔۔ہم صبح سویرے جاتے تھے اور رات کو دس بجے گیارہ بجے گھر واپس آتے تھے۔“ (ماہنامہ تخمیذ الا ذبان ربوہ ناصر دین نمبر ا پریل 1983 ، صفحہ 11,10) آپ کے اس عزم کا اظہار آپ کے ان اشعار سے بھی ہوتا ہے جو آپ کی بچپن کی ڈائری حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی تعلیم کا آغاز قرآن کریم سے ہوا۔پہلے آپ نے قرآن کریم ناظرہ پڑھا۔اس کے بعد آپ نے قرآن کریم حفظ کیا۔تیرہ برس کی عمر میں آپ میں لکھے ہوئے تھے۔نے قرآن کریم حفظ کیا اور 1922ء کے رمضان میں قادیان میں نماز تراویح پڑھائی اور قرآن کریم کا دور مکمل کیا جس کی خبر امریکہ سے شائع ہونے والے رسالہ ” دی مسلم سن رائز“ نے جولائی 1922ء میں دی۔29 جون 1931ء کو حضرت مصلح موعود نے اپنے بچوں کی آمین منعقد کی اور اس کے لئے اخلاق میں میں افضل ، علم و ہنر میں اعلیٰ احمد کی راہ پر چل کر بدرالدجی بنوں گا جو کچھ کہوں زباں سے ناصر میں کر دکھاؤں ہو رحم اے خدایا تا تیرے فضل پاؤں