حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 5
7 CO بچپن کے مشاغل پڑھائی کے ساتھ ساتھ آپ کھیلوں میں بھی باقاعدہ حصہ لیتے تھے اور اپنی جسمانی علمی اور اخلاقی قومی کی نشو و نما کے لئے کوشاں رہتے۔ایک مرتبہ بچپن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں اپنے زمانہ میں ہا کی بھی کھیلتا رہا ہوں اسی طرح بعض دوسری کھیلیں بھی جس کا مجھے موقع ملا کھیلیتارہا ہوں یعنی فٹ بال بھی ، میروڈ بہ اور گلی ڈنڈا بھی اور کلائی پکڑنا بھی (جسے پنجابی میں بینی پکڑنا بھی کہتے ہیں ) وہ بھی کھیلتا رہا ہوں۔اب نام لیتے وقت مجھے یاد آیا کہ بعض کھیلیں میں نے نہیں کھیلیں کیونکہ ان کے کھیلنے کا مجھے موقع نہیں ملا۔۔۔میں نے سیر بھی کی ہے۔سیر بھی بہترین ورزش ہے۔پھر سیر کی ایک شکل بہت اچھی اور صحت مند غذا کے حصول کے لئے شکار کھیلنا ہے۔چنانچہ میں شکار بھی کھیلیتارہا ہوں۔پھر تیرا کی بھی کرتا رہا ہوں۔“ لا ہور میں زمانہ طالب علمی (1934 1930) 1930ء میں آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔جہاں سے 1934 ء میں آپ نے بی اے کا امتحان پاس کیا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں قیام کے دوران آپ نے احمدی طلباء کی ایک تنظیم ”عشرہ کاملہ“ کے نام سے بنائی جس کا منشور ( دین حق ) اور احمدیت کی طرف دعوت تھا۔آپ نے لاہور کے مختلف کالجوں کے دس طلباء کو اس تنظیم کا رکن بنایا۔آپ کو متفقہ طور پر اس تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا۔یہ تنظیم حضرت مسیح موعود کے اقتباسات دو ورقہ فولڈر پر شائع کر کے لا ہور کے مختلف کالجوں میں تقسیم کرتی تھی جس سے طالب علموں میں بحث مباحثہ کا شوق پیدا ہوا۔ایسے ہی طلباء میں ایک مکرم ملک عبدالرحمن صاحب خادم تھے جو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے چوٹی کے مناظروں میں شمار ہوئے جنہیں دو اور بزرگوں کے ساتھ حضرت مصلح موعود نے 1956ء (ماہنامہ تشخیذ الاذہان ناصرالدین نمبر صفحہ 14) آپ کو گھڑ سواری کا بھی شوق تھا ایک بار گھوڑے سے گرے اور کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔میں ” خالد“ کا خطاب دیا۔کالج میں قیام کے دوران آپ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھے۔آپ نے نہایت صبر اور شجاعت کا اظہار کیا۔دراصل آپ بچپن سے نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک آپ نے ایک بار اپنے کالج کے زمانے کا واقعہ سنایا۔فرمایا: میں جن دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھا کرتا تھا۔ان دنوں کا مجھے ایک واقعہ یاد تھے صبر اور برداشت بہت تھی بہت وسیع حوصلہ تھے اور بہادر اور شجاع تھے۔آپ نے کبھی وقت ضائع نہیں کیا۔وقت کی پابندی کرتے تھے۔وقت پر اُٹھنا ،سکول جانا،نمازوں کے لئے جانا، آ گیا۔کالج میں چھٹی تھی۔میں قادیان جارہا تھا ایک تیز قسم کا مخالف بھی گاڑی کے اسی ڈبے میں کھیلنے کے لئے جانا ، وقت پر کھانا کھانا اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔اس کے پیچھے حضرت اماں بیٹھ گیا۔لاہور سے امرتسر تک وہ میرے سامنے سخت بدزبانی کرتا رہا اور میں مسکرا کر اسے جواب جان کی تربیت اور ذاتی توجہ کا بہت دخل تھا۔آپ کی طبیعت میں کسی قسم کا لالچ نہیں تھا۔ہر قسم کے دیتا رہا۔جس وقت وہ امرتسر میں اتر اتو اس مسکراہٹ اور خوش خلقی کا اس پر یہ اثر ہوا تھا کہ وہ مجھے حرص سے بالا تھے۔نفاست اور صفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔کہنے لگا کہ اگر آپ جیسے داعی الی اللہ آپ کو دوسومل جائیں تو ہم لوگوں کو جیت لیں گے کیونکہ ⭑⭑⭑⭑⭑ میں نے آپ کو غصہ دلانے کی پوری کوشش کی مگر آپ تھے کہ ہنتے چلے جارہے تھے۔“ ( بحوالة تشحيذ الا ذبان ناصر دین نمبر صفحہ 13,14)