حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 3
3 2 ذریعے بشارت دی کہ چوتھے بیٹے مبارک کے بدلے پانچواں بیٹا دیا جائے گا جو بطور نافلہ یعنی ایک دن حضرت اماں جان کے پاس محمد احمد منصور اور ناصر احمد متینوں بیٹھے ہوتا ہوگا۔اس بارہ میں آپ کو کئی الہام ہوئے۔ایک الہام میں اس کا نام بیٹی بتایا گیا۔ان تھے۔میں بھی تھی بچوں نے بات کی شاید حساب یا انگریزی ناصر احمد کو نہیں آتا ہمیں زیادہ الہامات میں سے ایک الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا ممکن ہے اس کی یہ تعبیر ہو آتا ہے۔اتنے میں حضرت بھائی جان ( حضرت مصلح موعود ) تشریف لائے حضرت اماں که محمود ( حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی۔ناقل ) کے ہاں لڑکا ہوگا جان نے فرمایا میاں قرآن شریف تو ضرور حفظ کراؤ مگر دوسری پڑھائی کا بھی انتظام کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں“۔ہو جائے کہیں ناصر دوسرے بچوں سے پیچھے نہ رہ جائے۔مجھے یہ فکر ہے۔اس پر جس طرح ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه 607) آپ مسکرائے تھے اور جو جواب آپ نے حضرت اماں جان کو دیا تھا وہ آج تک میرے ان خوش خبریوں کے پیش نظر بچپن میں ہی آپ کی مقدس دادی حضرت اماں جان (نصرت کانوں میں گونجتا ہے۔فرمایا: جہاں بیگم صاحبہ ) نے آپ کو اپنا بیٹا بنالیا اور اپنی آغوش تربیت میں لے لیا۔چنانچہ حضرت اماں جان کی بیٹی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں: ”حضرت اماں جان ناصر احمد کو بچپن میں اکثر یحیی کہا کرتیں اور فرماتی تھیں کہ یہ میرا مبارک ہے، بیٹی ہے، جو مجھے بدلہ مبارک کے ملا ہے۔اماں جان! آپ اس کا بالکل فکر نہ کریں ایک دن یہ سب سے آگے ہوگا۔انشاء اللہ (الفضل 25 جنوری 1965ء) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنا کر آپ کو اپنے زمانے کے لوگوں میں سب سے آگے کر دیا۔جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کے اعلیٰ منصب پر فائز کیا تو آپ نے خود بھی اس عظیم الشان بشارات ربانیہ مولفہ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب صفحہ 17) پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر اعلان کیا۔آپ کی پیدائش سے دو ماہ قبل حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی نے بھی اپنے ایک خط میں لکھا: مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور ( دین حق ) کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا۔“ الفضل قادیان مورخہ 18اپریل 1910ء) حضرت مصلح موعود کو آپ کے بچپن سے ہی یقین تھا کہ یہ وہی بیٹا ہے جس کے بارے میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔چنانچہ جب آپ قرآن کریم حفظ کر رہے تھے اور ساتھ دوسری تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے تو حضرت اماں جان کو فکر پیدا ہوئی کہ آپ کہیں خاندان کے دوسرے بچوں سے تعلیم میں پیچھے نہ رہ جائیں۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں: پھر خدا نے فرمایا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ایک ہی پیشگوئی بعض دفعہ کئی واقعات پر مشتمل ہوتی ہے کئی لحاظ سے یہ پیشگوئی پہلے بھی پوری ہو چکی ہے لیکن اس کے ایک معنی یہ بھی تھے کہ جن چارلڑکوں کی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بشارت دی تھی ان میں سے جو چوتھا لڑکا حضرت مصلح موعود کے صلب سے پیدا ہوگا اور وہ بمنزلہ مبارک احمد ہوگا جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تحریر فرمایا ہے۔سواس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔“ خطاب جلسہ سالانہ ربوہ 21 دسمبر 1965ء)