حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 23 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 23

43 42 نئی نسلوں کی ذمہ داری آپ نے فرمایا: ”ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جماعت احمدیہ کی ترقی کی رفتار میں جو تیزی اور شدت پیدا ہو چکی ہے اور جماعت ہر سال پہلے سے زیادہ تعداد میں بڑھتی چلی جاتی ہے یہ ہر سال ہی پہلے سے زیادہ بڑھتی چلی جائے اور ہماری کسی نسل کی کمزوری کے نتیجہ میں اس میں کمزوری پیدانہ ہو۔۔۔۔۔دعا کریں کہ اے خدا جس غرض کے لئے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے وہ غرض ہماری زندگیوں میں پوری ہو اور آپ کی بعثت کی غرض کو پورا کرنے کے لئے اب نئی نسلوں کے کندھوں پر بوجھ پڑنے ہیں۔ہم اُن نئی نسلوں میں شامل ہیں۔ہمارے بعد اور نئی نسلیں آئیں گی۔میں بخیل نہیں ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے جتنی تمہیں خدمت کی توفیق ملے۔میں یہ کہتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے بڑھ کر تو فیق ملے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے کی اور مجھ سے زیادہ تم اس کے فضلوں کے وارث بنو “ آپ نے جتنی تحریکات فرما ئیں ان کا مقصد یہی تھا کہ ہر شخص کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی استعدادوں کی بکمال نشو ونما ہو اور وہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے فی الواقع مفید اور کارآمد وجود بن سکے۔چنانچہ آپ کی بعض متفرق تحریکات یہ ہیں: جماعت کے افراد کو قوی اور امین بنانے کی تحریک مجلس صحت کا قیام۔خدام اور لجنہ کو الگ الگ کھیلوں کا کلب بنانے کی تحریک۔سائیکل سواری اور سائیکل سفر۔گھوڑے پالنے کی تحریک۔چہروں پر بشاشت اور مسکراہٹ پیدا کرنے کی تحریک۔(دینی) آداب و اخلاق کی ترویج کی تحریک تحریک وقف زندگی۔مالی تحریکات۔علمی میدان میں آگے بڑھنے کی تحریک۔بیماری اور وفات سین کی بیت الذکر مکمل ہو چکی تھی۔اور اس کے افتتاح کے لئے 10 ستمبر 1982ء کا دن مقرر ہو چکا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث 23 مئی 1982 ء کور بوہ سے اسلام آباد تشریف لے گئے تا کہ ویزے لگوائیں لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔آپ کا قیام بیت الفضل سیکٹر 8/2-F اسلام آباد میں تھا۔وہیں نمازیں ہوتی تھیں۔26 مئی بروز بدھ عشاء کی نماز کے دوران آپ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔بقیہ نماز آپ نے بیٹھ کر پڑھائی۔دراصل یہ دل کا افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ربوہ 26 دسمبر 1978ء) ابتدائی حملہ تھا۔3 جون کو انگلستان کے مشہور ماہر امراض دل ڈاکٹر سٹیون جینکنز Dr۔Steven) (Jankins کو بلوایا گیا۔انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ 31 مئی کو دل کا شدید دورہ ہوا حضرت خلیفة المسیح الثالث کی متفرق تحریکات اس مختصر سی کتاب میں آپ کی سوانح اور تحریکات کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا صرف چند متفرق ہے۔جس کے بعد بیماری انتہائی تشویش ناک صورت اختیار کر گئی اور چند ہی دنوں میں وہ واقعہ رونما ہو گیا جس کے قبول کرنے کے لئے ایک کروڑ سے زائد افراد جماعت احمد یہ عالمگیر جو آپ تحریکات کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے۔آپ نے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا: قرآن کریم پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر ہمیں چار قسم کی قوتیں کے بے حد چاہنے والے تھے اور جن کے دلوں اور دماغوں پر آپ سترہ اٹھارہ سالوں سے حکومت اور صلاحیتیں عطا ہوئی ہیں۔(۱) جسمانی۔(۲) ذہنی۔(۳) اخلاقی اور (۴) روحانی۔کر رہے تھے بالکل تیار نہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی۔چودھویں صدی سے پندرھویں