حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 24
45 44 میں نے اپنے خدا کی آواز کو بارہا سنا ہے اور اس نے مشکل وقتوں میں خود میری راہنمائی فرمائی ہے۔“ (الفضل 28 راگست 1978ء) قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور محبت میں آپ ہر وقت سرشار رہتے صدی میں نہایت شاندار طریقے سے جماعت کو داخل کر کے اور شاہراہ غلبہ ( دین حق ) پر اللہ کے نتیجہ میں تھا۔آپ حضرت مسیح موعود کے الہام عشق الہی وستے منہ پرولیاں ایہہ تیز قدموں پر ڈال کر اور ( دین حق) کے روشن مستقبل کا دلوں میں یقین محکم پیدا کر کے نشانی“ کے مصداق تھے۔آپ اکثر کشوف و رؤیا اور الہام الہی سے مشرف ہوتے رہتے لیکن آپ 8 اور 9 جون 1982ء ( مطابق 16,15 شعبان 1402ھ ) منگل اور بدھ کی درمیانی شب اظہار بہت کم کرتے ، ایک بار فرمایا: پونے ایک بجے اپنے رفیق اعلیٰ مولا کریم کے حضور حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 9 جون 1982 علی الصبح آپ کا جسم اطہر تابوت میں رکھ کر دعا اور صدقے کے بعد قافلہ ربوہ کی طرف روانہ ہوا جہاں دور دور سے آپ کے عشاق پہنچ کر آپ کے آخری دیدار سے فیض یاب ہوئے۔معاندین نے فتنہ و فساد کے منصوبے بنائے لیکن اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خود حفاظت فرمائی اور اپنے وعدوں کے مطابق خلافت کے نظام کو جاری رکھا۔10 جون 1982ء کو تھے بنی نوع انسان کی ہمدردی اور خیر خواہی سے آپ کا دل سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا تھا۔حضرت مصلح موعود کی قائم کردہ انتخاب خلافت کمیٹی کا صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل صبر وتحمل اور بردباری آپ کے اوصاف حمیدہ تھے۔معاندین کی ایذا رسانیوں پر ہمیشہ مسکرادیا اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس ہوا اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ المسیح الرابع کرتے اور گالیاں سن کر دعا دو۔پاکے دکھ آرام دو کی تعلیم پر عمل کرتے۔دنیا کی کوئی منتخب ہوئے جنہوں نے دستور کے مطابق بیعت لینے کے بعد اپنے پیشر وخلیفہ نافله موعود حضرت طاقت اور کسی جابر و ظالم کا رعب آپ کے چہرے کی بشاشت اور مسکراہٹ نہ چھین سکا۔آپ کا حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثالث کی نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ میں ایک لاکھ دیا ہوا مائو Love for All Hatred for None قیامت تک زندہ رہے گا۔افراد جماعت نے شرکت کی۔آپ کو حضرت مصلح موعود کے پہلو میں سپردخاک کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ لصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق ( دین حق ) کے روشن مستقبل آپ کے زمانے میں بہت ترقیات ہوئیں۔425 نئی بیوت الذکر تعمیر ہوئیں۔قرآن کریم اور دائمی اور عالمگیر غلبہ پر آپ کو ایسا یقین تھا جیسے مستقبل کو آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہوں۔کے کئی تراجم شائع ہوئے، دنیا بھر میں وسعتیں نصیب ہوئیں، جماعت ایک کروڑ افراد سے آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں ( دین حق) کے ساری دنیا پر غالب آنے کے بارہ میں پر امید ہی نہیں پر یقین ہوں۔اس لئے بھی کہ حالات اور زمانہ کی حرکت ہمارے حق میں ہے۔“ تجاوز کر گئی۔پاک سیرت دوره مغرب 1400 ھ صفحہ 288) آپ ابتلاؤں میں ثابت قدم رہنے والے اور کامیابیوں میں مزاج کے منکسر اور طبیعت حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی سیرت کے کئی روشن پہلو ہیں لیکن سب سے روشن پہلو آپ کے غریب تھے فرماتے تھے "I am humblest of the humble" (ترجمہ: میں سب کی مقناطیسی شخصیت اور مسکراتا ہوا نورانی چہرہ تھا جو تعلق باللہ اور عشق الہی اور زبر دست تو کل علی سے زیادہ عاجز اور خاکسار ہوں) آپ نے افراط و تفریط کی دو پہاڑیوں کے درمیان (دین