حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

by Other Authors

Page 22 of 25

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ — Page 22

41 40 شخص دوسرے کی خدمت کے لئے تیار ہو جائے تو آج دنیا سےفسادمٹ سکتا ہے۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم کا وصال افتتاحی خطاب جلسه سالانہ 26 دسمبر 1980ء) انسان کا اس نے ہاتھ پکڑا اور اعلان کیا کہ اس ذرہ ناچیز سے میں دنیا میں انقلاب بپا کروں گا اور کر دیا۔( تقریر جلسہ سالانہ ربوہ 27 دسمبر 1981ء) حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ سے نکاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق آپ نے 11 اپریل 1982ء کو حضرت آپ کی خلافت کے سترھویں سال یہ سانحہ پیش آیا کہ آپ کی رفیقہ حیات حضرت سیدہ سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ بنت خان عبدالمجید خان صاحب کے ساتھ نکاح کیا اور خطبہ نکاح میں منصورہ بیگم صاحبہ کا مختصر علالت کے بعد 3 دسمبر 1981 ءکور بوہ میں انتقال ہو گیا۔4دسمبر 1981ء کو عصر کے وقت ہزاروں عشاق خلافت کے ساتھ آپ نے ان کی فرمایا۔ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ تیسر ا نکاح ہو رہا ہے کہ جو خود اس رشتہ کا دولہا بننے والا ہے وہ آپ ہی خطبہ نکاح پڑھنے والا ہے۔فرمایا۔میری دو حیثیتیں ہیں ایک مرزا ناصر احمد کی حیثیت نماز جنازہ پڑھائی اور قطعہ خاص میں حضرت مصلح موعود کے پہلو میں ایک قبر چھوڑ کر انہیں سپردخاک کیا گیا۔1981 ء کا جلسہ سالانہ 1981ء کا جلسہ سالانہ آپ کا آخری جلسہ سالانہ ثابت ہوا۔صد سالہ احمد یہ جوبلی منصہ کے تحت بڑی تیزی سے کام ہوئے فرمایا: ”اب ہم پندرہویں صدی ہجری ) میں خدا تعالیٰ کے بڑے عظیم الشان نشانوں کو دیکھنے کے لئے داخل ہو چکے ہیں۔۔۔745 سال بعد سپین کی ( بیت الذکر) مکمل ہوگئی۔پھر ہم پھیلیے مشرق کی طرف ، ابھی ادھر نہیں گئے۔جاپان میں اللہ تعالیٰ نے ایک گھر کی خرید کا سامان پیدا کر دیا۔۔۔پھر بڑی وسعت پیدا ہو رہی ہے۔کینیڈا اور امریکہ میں۔۔۔۔بڑی وسعت پیدا ہو رہی ہے افریقہ کے بہت سے حصوں میں۔۔۔۔میں تو حیران ہوں، حیرت میں گم ہوں اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عظمت میرے اس زمانہ میں اس بات سے ثابت ہوئی کہ میرے جیسے عاجز ہے مرزا ناصر احمد ہی اگر ہوتا تو دنیا میں کسی نئی شادی کی ضرورت نہیں تھی لیکن دوسری حیثیت ہے جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہونے کی جس پر جماعت احمدیہ کے مردوں اور جماعت احمدیہ کی عورتوں کی تربیت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔چنانچہ اس احساس کی آگ جہاں میرے اندر سلگتی رہی اور بڑی مشکل تھی میرے لئے۔وہاں امریکہ سے لے کر دنیا کے دوسرے کنارے تک جماعت احمدیہ میں یہ احساس پیدا ہوا کہ دوسری شادی کرنی چاہیے مردوں نے بھی خط لکھے اور عورتوں کی طرف سے بھی مطالبہ آیا کہ خلیفہ وقت کی بیوی ، خلافت اور جماعت احمدیہ کی مستورات کے درمیان ایک قسم کاCushion ( رابطہ) ہوتی ہے۔آپ نے خود بھی چالیس دن دعائیں کیں اور جماعت کے بعض بزرگوں سے بھی دعا ئیں کروائیں اور کئی مبشر خوابوں کے بعد عبدالمجید خان صاحب کو ان کی بیٹی طاہرہ صدیقہ کے لئے پیغام لکھ کر بھیجا۔سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ کی والدہ کو پہلے سے خواب آچکی تھی کہ ان کی بیٹی طاہرہ کے لئے ایک بہت اونچا رشتہ آیا ہے۔حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ نے پورے انشراح صدر سے یہ رشتہ قبول کیا۔آپ نے فرمایا کہ تفاوت عمر کے با وجود انہوں نے بڑی ہمت اور عزم اور اخلاص اور خدا اور اس کے دین کے لئے محبت کی خاطر یہ رشتہ قبول کیا ہے۔