حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

by Other Authors

Page 3 of 27

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 3

3 2 سال تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مریم کا رشتہ مبارک احمد کے لئے مانگا جو محترم ڈاکٹر صاحب نے بخوشی قبول کر لیا۔چنانچہ 30 اگست 1907 ء کو دونوں کا نکاح پڑھ دیا گیا۔پیارے بچو! ایسا نکاح یا رشتہ شرعی لحاظ سے جائز ہے جس میں دلہا اور دلہن کم عمر ہوں جب وہ جوان ہوں تو انہیں اجازت ہوتی ہے کہ چاہیں تو اس نکاح کو قائم رکھیں اور چاہیں تو ختم کرالیں۔ہم بات کر رہے تھے سیدہ مریم اور صاحبزادہ مبارک احمد کے نکاح کی جو انجام پایا اور نکاح حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب نے پڑھا۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔نکاح کے چند روز بعد 16 ستمبر 1907ء کو صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے اور سیدہ مریم اڑھائی سال کی عمر میں بیوہ ہوگئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواہش ظاہر فرمائی کہ یہ لڑکی ہمارے گھر میں ہی رہ جائے تو بہتر ہے۔خدا کی شان دیکھیں حضور انور کے لبوں سے نکلے ہوئے یہ الفاظ کیسے پورے ہوئے۔قریباً 14 سال بعد 7 فروری 1921ء کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سیدہ مریم سے نکاح کر کے انہیں اپنی زوجیت میں لے آئے اور سیدہ مریم کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ آپ دو مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو بنیں اور یکے بعد دیگرے آپ کے دو بیٹوں کے عقد میں آئیں۔سیدہ مریم کے نکاح ثانی کا اعلان حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب نے کیا۔آپ نے خطبہ نکاح میں یہ پیشگوئی فرمائی۔میں بوڑھا ہوں۔میں چلا جاؤں گا مگر میرا ایمان ہے کہ جس طرح سے پہلے سیدہ سے خادم دین پیدا ہوئے۔اسی طرح اس سے بھی خادم دین ہی پیدا ہو نگے۔یہ مجھے یقین ہے جو لوگ زندہ ہوں گے وہ دیکھیں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کو سیدہ مریم کے بطن سے ایک ہی با عمر فرزند عطا فرمایا۔جس کا نام طاہر احمد رکھا گیا۔آپ 18 دسمبر 1928ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس روز آپ کی پیدائش ہوئی اس سے اگلے روز قادیان میں پہلی دفعہ ریل گاڑی پہنچی اور جدید ذرائع نقل و حمل کے ذریعہ قادیان کا باقی دنیا سے الحاق کا آغاز ہوا۔پیدائش اور پچپن آپ کی پیدائش خاندان کے لئے اس وجہ زیادہ خوشکن تھی کہ سیدہ مریم جو آپ کی پیدائش کے بعد اُم طاہر کہلانے لگیں ) کے ہاں دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد ایک بیٹا چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گیا تھا۔اب خدا تعالیٰ نے نعم البدل کے طور پر یہ خوبصورت بچہ آپ کو عطا فرمایا۔طاہر احمد کی آنکھیں بھوری اور بال باریک اور سیاہ تھے۔ناک ستواں لیکن ذرا خدا تھی۔رنگ گورا تھا۔میانہ قد اور مناسب اور پھر تیلا جسم تھا۔