حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 4
5 4 جب آپ کا دودھ چھڑایا گیا تو آپ کی دایہ آپ کو ڈیری فارم پر لے جاتی جہاں بھینس کے دودھ کی دھاریں آپ کو پلائی جاتیں۔آپ بچپن میں بہت کم بیمار ہوئے۔بہت شگفتہ مزاج ، ہنس مکھ تھے۔شرارتیں بھی کرتے لیکن ایسی نہیں کہ کسی کا دل دکھے۔ہمجولیوں کے ساتھ کھیلتے اور مقابلے کرتے۔مثلاً دیوار پر چلنے کا مقابلہ یا بارش کے پانی سے بھرے ہوئے گھڑوں کو پھلانگنے کا مقابلہ، کچھ بڑے ہوئے تو فٹبال اور کبڈی میں بھر پور حصہ لیتے رہے۔کبڈی میں تو آپ نے خاصی شہرت حاصل کی۔آپ کے بچپن کے دلچسپ واقعات میں سے ایک واقعہ آپ کو بتاؤں۔قادیان میں ایک کنواں کھودا جار ہا تھا۔ننھے طاہر نے دن کے وقت مزدوروں کو دیکھا کہ وہ کس طرح رسہ کو پکڑ کر پاؤں کنویں کی دیوار سے اٹکا کر نیچے اُترتے جاتے ہیں اور پھر اسی طرح اوپر چڑھ کر باہر آتے ہیں۔شام ڈھلے جب سب مزدور چلے گئے تو آپ نے بھی کنویں میں اترنے کی ٹھانی۔جونہی رسہ پکڑا کنویں میں اترے اور لگے دیوار تلاش کرنے لیکن آپ کی ٹانگیں تو بہت چھوٹی تھیں اور دیوار تک پہنچ نہ سکتی تھیں نتیجہ یہ نکلا کہ آپ تیزی سے نیچے گرتے چلے گئے اور رسہ کی وجہ سے آپ کے ہاتھ چھلنی ہو گئے۔اب آپ کو یہ ڈر تھا کہ امی جان نے زخمی ہاتھ دیکھے تو گھبرا جائیں گی چنانچہ آپ ڈاکٹر کے پاس گئے ، صرف مرہم ہاتھوں پر لگائی اور پٹی نہ باندھی، اس طرح اس تکلیف کو برداشت کرتے رہے لیکن اپنی والدہ کو پتہ نہ لگنے دیا کہ انہیں تکلیف ہوگی اور سزا ملنے کا بھی ڈر تھا۔ایک مرتبہ آپ کبڈی کا میچ کھیل رہے تھے، مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو اس مہارت اور زور سے قینچی کا داؤ لگایا کہ اس کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔اس پر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور کبڈی کھیلنا ہی چھوڑ دیا۔لیکن کچھ عرصہ بعد آپ کے دوستوں نے ایک میچ کے لئے بہت اصرار کیا کہ آپ اس اہم میچ میں ضرور ہماری ٹیم میں شامل ہوں کیونکہ دوسری ٹیم بڑی مضبوط ہے۔آپ آمادہ ہوئے لیکن عجیب اتفاق کہ میچ کے دوران جس پہلے کھلاڑی کو آپ نے اپنا وہی مخصوص قینچی کا داؤ لگایا تو اس بیچارے کی بھی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔اس کے بعد آپ نے کبڈی کو خیر آباد کہہ دیا یعنی کبڈی کھیلنا ترک کر دیا۔البتہ کہڈی سے آپ کی دلچسپی ہمیشہ برقرار رہی۔آپ ایک عمدہ تیراک بھی تھے۔آپ بڑی مہارت سے گھڑ سواری بھی کیا کرتے تھے۔آپ ایک جری اور باہمت انسان تھے۔بچپن میں ہی آپ کے عزم کا حال ملاحظہ ہو۔آپ کی ہمشیرہ صاحبزادی امتہ القیوم بیان کرتی تھیں کہ بچپن میں جب آپ سے پوچھا جاتا کہ بڑے ہو کر کیا ہو گے ؟ تو بڑی سنجیدگی سے جواب دیتے ” میں لوگوں کا گلہ بان بنوں گا۔1934ء میں حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا اور وقف زندگی کی تحریک کی تو طاہر احمد جن کی عمر صرف نو سال تھی، نے بھی اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کر دیا اور باقاعدہ چندہ دینا شروع کر دیا۔جو آپ اپنی جیب خرچ سے