حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 24
45 44 حضرت صاحب رحمہ اللہ گھر پر ہی لوگوں کو دوائیاں دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ جلسہ کے دن تھے۔جلسہ کے تیسرے دن ان کے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی جو چھ گھنٹے کی ہوکر فوت ہوگئی ( یہ بچی عزیزہ مونا سے چھوٹی تھی )۔آپ اس وقت جلسہ کی ڈیوٹی میں مصروف تھے۔تھوڑی دیر کے لئے آئے، بچی کو دیکھا اور پھر چلے گئے۔اگلے دن جلسہ تو ختم ہو چکا تھا لیکن دور دراز دیہات سے آئے ہوئے لوگ صبح فجر کے فوراً بعد ہی دوائیاں لینے کے لئے اکٹھے ہونے شروع ہو گئے۔آپ ان کو دوائیاں دیتے رہے یہاں تک کہ گیارہ بج گئے۔بھائی منصور بڑے غصہ میں آئے اور کہا کہ آپ ادھر دوائیاں دے رہے ہیں اُدھر حضرت صاحب (خلیفتہ المسیح الثالث) جنازہ کے لئے کھڑے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔پھر منصور بھائی نے لوگوں کو ڈانٹا کہ تم لوگوں کو ذرا خیال نہیں کہ اس کی بیٹی کا جنازہ پڑا ہے اور تم بیٹھے ہو۔لوگ سخت شرمندہ ہوئے کہ ہمیں تو انہوں نے بتایا ہی نہیں۔آپ نے بھائی منصور سے کہا کہ بھائی ! یہ لوگ اتنی دور سے سال میں ایک دفعہ آتے ہیں۔ابھی دوائیاں نہیں لے کر جائیں گے تو پھر کس وقت آئیں گے۔دوبارہ آنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے اس لئے ان کو دوائیاں دے رہا ہوں۔خیر جب آپ نے یہ سنا کہ حضور انتظار کر رہے ہیں تو فوراً چھوڑ کر چلے گئے۔(ماہنامہ ” خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 47) احباب جماعت سے محبت ایک مرتبہ حضور رحمہ اللہ سے ایک احمدی بھائی کی ملاقات میں خاکسار ( مکرم عبد الغنی جہانگیر صاحب۔ناقل ) بھی شامل تھا جو اپنے آنسوؤں پر قابونہ رکھ سکا جب اس نے حضور رحمہ اللہ کو بتایا کہ حضور ! میں اپنے فرائض کو پوری طرح ادا نہیں کر سکا اور اس کی وجہ سے میری بہت سے کوتا ہیاں ہیں وہ نہیں کر سکا جو آپ مجھ سے چاہتے تھے۔براہ کرم مجھے معاف فرما دیں۔اس پر حضور بھی آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا:۔ٹھیک ہے میں نے آپ کو لوگوں سے معاملات کرتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ کے اندر تقویٰ پایا ہے۔تقویٰ ہی ہے جس سے اللہ محبت کرتا ہے اور میں بھی اسی وجہ سے آپ سے محبت رکھتا ہوں۔خالد سیدنا طاہر نمبر مارچ، اپریل 2004 صفحہ 149) مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب امام بیت الفضل لندن کینیڈا کے ایک غیر مسلم پروفیسر ڈاکٹر Gualter کا واقعہ بیان کرتے ہیں جنہوں نے حضور انور سے ملاقات کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا:۔پروفیسر صاحب جب حضور رحمہ اللہ سے ملاقات کے بعد باہر آئے تو انہوں نے کہا کہ امام صاحب سے مل کر ان کی باتوں سے میں نے یہ تاثر لیا کہ احمدی حضرات اپنے روحانی سربراہ سے بہت محبت کرتے ہیں اور بعد میں