حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 25
47 46 جب میں نے احمدیوں کے روحانی راہنما سے گفتگو کی تو اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ احمدی ضرور اپنے روحانی سربراہ سے بھر پور محبت کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ ان کا سر براہ احمدیوں سے ان سے بہت بڑھ کر محبت اور پیار کرنے والا ہے۔کتنا صیح اور سچا تجزیہ ہے جو اس دانشور نے کیا۔(ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 299) انفاق فی سبیل اللہ مکرم بشیر احمد صاحب، خادم حضرت خلیفہ امسیح الرابع بیان کرتے ہیں:۔یہی آپ نے خطبوں یا جلسہ کے موقعہ پر اکثر دیکھا ہو کہ جب بھی کوئی مالی تحریک فرماتے تو سب سے پہلے اپنی طرف سے کافی بڑی رقم کی ادائیگی فرماتے اور تقریر کے دوران ہی فرما دیا کرتے کہ اتنی رقم میری طرف سے ہوگی اور پھر اس کی ادائیگی جلدی فرما دیا کرتے تھے۔وو جب بیت الفتوح، مورڈن کے لئے مالی تحریک فرمائی تو سب سے پہلے اپنی طرف سے 50 ہزار پاؤنڈ کا وعدہ فرمایا جو کہ ادا کر دیا گیا۔اس کے بعد جب دوسری دفعہ تحریک فرمائی تو اس کا دس فیصد خود ادا کرنے کا اعلان فرمایا جو کہ پانچ لاکھ پاؤنڈ بنتا تھا۔جب خطبہ جمعہ کے بعد اُوپر اپنی رہائش گاہ پر تشریف لائے تو خاکسار نے عرض کی آج حضور انور نے دس فیصد خود دینے کا اعلان فرمایا ہے تو آپ کو علم ہے اس کا حصہ 50 ہزار پاؤند نہیں بلکہ پانچ لاکھ پاؤنڈ بنتا ہے۔فرمایا جو کہہ دیا سوکہ دیا اس کو کم نہیں کر سکتا اور انشاء اللہ جلد از جلد ادا کر دوں گا۔کیونکہ رقم زیاد تھی اور حضور انور اس کی ادائیگی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے تھے اور بیت الفتوح" کے لئے رقم کی بھی سخت ضرورت تھی۔اس لئے آپ کو اس کی ادائیگی کے لئے اپنی جائیداد کا ایک حصہ بیچنا پڑا (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 247) تا کہ اس میں تا خیر نہ ہو۔مکرم محمد عثمان چا و صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ چینی ترجمعہ کی اشاعت کے جملہ اخراجات حضور رحمہ اللہ نے ذاتی جیب سے ادا کیے تا کہ اس کا ثواب آپ کے والد حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور آپ کی والدہ صاحبہ کو پہنچے۔(ماہنامہ ”تحریک جدید سیدنا طاہر نمبر اگست ستمبر 2008ء صفحہ 22) مهمان نوازی مکرم سید نصیر احمد شاہ صاحب چیئر مین۔M۔T۔A بیان کرتے ہیں:۔ایک مرتبہ آپ کو علم ہوا کہ ایم ٹی اے پر کام کرنے والے کھانا نہیں کھا پاتے تو از راہ شفقت اپنے گھر سے ایم ٹی اے کے سٹاف کے لئے کھانا تیار کر کے بھجوانا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آپ کو یقین نہیں ہو گیا کہ اب مناسب انتظام ہو گیا ہے۔یہ شفقت کسی کے تکلیف کے اظہار کی بناء پر ہرگز نہیں تھی بلکہ آپ کی ذاتی توجہ کا نتیجہ تھا۔آپ کی شفقت و محبت کے ایسے بے شمار واقعات ہیں جن کا حسین تجر بہ ہم میں ہر ایک نے ذاتی طور پر بار بار کیا۔۔خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 267)