حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

by Other Authors

Page 23 of 27

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 23

43 42 سائیکل اُسے دے دیا جو کہ بہت بہتر حالت میں تھا۔آپ نے خود پیدل جانا گوارا کر لیا لیکن اس ضرورتمند کی ضرورت پوری کرتے ہوئے اپنا سائیکل اسے عطا فرما دیا۔ایک دفعہ ایک دوست نے حضور رحمہ اللہ سے کہا کہ میں اپنی بیٹی کو کالج میں داخل کروانا چاہتا ہوں لیکن اس کا برقعہ پرانا ہے۔اس مجبوری کی وجہ سے میں اپنی بیٹی کالج داخل نہیں کروارہا۔حضور انور رحمہ اللہ نے مجھے فرمایا کہ ان کی بچی کو نیا بُرقعہ بھی لے دیں، نیا یونیفارم بھی خرید دمیں اور نئے بوٹ بھی دلواد ہیں۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔خدائے رحیم و کریم نے اپنے محبوب بندے کے دل میں شروع ہی سے مخلوق خدا کی ہمدردی اور محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔چنانچہ انہی جذبات مقدسہ کی بدولت حضور انور رحمہ اللہ نے ۱۹۶۰ء میں، جب کہ آپ ناظم ارشاد وقف جدید تھے ہومیو پیتھی کی مفت ادویہ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔آغاز میں اپنے گھر سے تیسرے پہر دوائیں دیتے تھے۔۱۹۶۵ء میں آپ نے اپنی ہمشیرہ صاحبزادی امتہ احکیم بیگم صاحبہ کے گھر میں دوائیں رکھیں۔مریض دن کے اوقات میں نسخہ لکھوا لیتے اور عصر کے بعد بیگم صاحبہ کے گھر سے صوفی عبد الغفور صاحب دوائیں دیتے تھے۔یہ سلسلہ ۱۹۶۸ ء تک جاری رہا۔جب وقف جدید میں با قاعدہ ڈسپنسری قائم ہوئی اس وقت تک تمام اخراجات آپ خود برداشت کرتے تھے۔آپ کے اس فیض سے ہزاروں مریضوں کی مسیحائی ہوئی۔حضور رحمہ اللہ غرباء کا بڑا خیال رکھتے تھے۔بعض اوقات بوڑھی اور غریب عورتیں جب ڈسپنسری میں دوائی وغیرہ لینے آتیں تو آپ مجھے فرماتے سردی ہے انہیں گرم چادر لے دیں۔چنانچہ میں آپ کے علم کی تقبیل میں انہیں گرم چادر میں دلوادیتا۔ڈسپنسری کے اوقات میں ایک دن ایک بچہ آیا۔حضور نے اسے پوچھا بچے کونسی دوائی لینی ہے۔اُس نے کہا دوائی نہیں لینی۔آپ نے فرمایا پھر کیا لینا ہے؟ اُس نے کہا کہ میرا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے اور رات کو گرمی ہوتی ہے اور ہمیں مچھر کا تا ہے ہمارے پاس پنکھا نہیں۔آپ ہمیں پنکھالے دیں۔آپ نے پوچھا کون سا پنکھا چاہیے؟ اس نے کہا پیڈسٹل فین لے دیں۔آپ نے انہیں وہ پنکھالے دیا اور تانگے پر رکھوا کر ان کے گھر پہنچا دیا۔جب میں وقف جدید میں بطور کارکن آیا اس وقت ہمارا گھر دارالصدر میں ہوتا تھا اور میرے پاس سائیکل نہیں تھی۔دفتری اوقات کے بعد جب میں پیدل گھر جارہا ہوتا تھا تو آپ مجھے اپنے ساتھ سائیکل پر بٹھا لیتے تھے اور سائیکل خود چلاتے تھے۔میرے اصرار پر بھی سائیکل مجھے نہ چلانے دیتے اور فرماتے کہ پیچھے بیٹھ جائیں۔میں عرض کرتا گرمی ہے پیچھے ہوا نہیں لگتی فرماتے آپ آگے آکر بیٹھے جائیں۔(ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 177-175) محترمہ صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ نے بیان کیا:۔