حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

by Other Authors

Page 15 of 27

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 15

27 26 سیرت کے چند دلکش پہلو عبادت الہی حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے وہ لمحہ بہت پیارا لگتا ہے جو ایک مرتبہ لندن میں New Years day کے موقع پر پیش آیا۔یعنی اگلے روز نیا سال چڑھنے والا تھا اور عید کا سماں تھا۔رات کے بارہ بجے سارے لوگ ٹریفالگر سکوائر (Trafalgar Square) میں اکٹھے ہو کر دنیا جہان کی بے حیائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جب رات کے بارہ بجتے ہیں تو پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی تہذیبی روک نہیں ، کوئی مذہبی روک نہیں ، ہر قسم کی آزادی ہے۔اس وقت اتفاق سے وہ رات بوسٹن اسٹیشن پر آئی۔مجھے خیال آیا جیسا کہ ہر احمدی کرتا ہے اس میں میرا کوئی خاص الگ مقام نہیں تھا۔اکثر احمدی اللہ کے فضل سے ہر سال کا نیا دن اس طرح شروع کرتے ہیں کہ رات کے بارہ بجے عبادت کرتے ہیں۔مجھے بھی موقع ملا۔میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا۔اخبار کے کاغذ بچھائے اور دو نفل پڑھنے لگا۔کچھ دیر کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ۔کوئی شخص میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا ہے اور پھر نماز میں نے ابھی ختم نہیں کی تھی کہ مجھے سسکیوں کی آواز آئی چنانچہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا انگریز ہے جو بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا ہے۔میں گھبرا گیا۔میں نے کہا پتہ نہیں یہ سمجھا ہے میں پاگل ہو گیا ہوں اس لئے شاید بیچارہ میری ہمدردی میں رورہا ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں ہوا میری قوم کو کچھ ہو گیا ہے۔ساری قوم اس وقت نئے سال کی خوشی میں بے حیائی میں مصروف ہے اور ایک آدمی ایسا ہے جو اپنے رب کو یاد کر رہا ہے۔اس چیز نے اور اس موازنہ نے میرے دل پر اس قد را ثر کیا ہے کہ میں برداشت نہیں کر سکا۔چنانچہ وہ بار بار کہتا تھا: God bless you۔God bless you۔God bless you۔God bless you۔خدا تمہیں برکت دے۔خدا تمہیں برکت دے۔خدا تمہیں برکت دے۔خدا تمہیں برکت دے۔) خطبه جمعه فرموده 20 /اگست 1982ء مطبوعہ الفضل ربوہ 31اکتوبر 1983ء) مکرم سید محمود احمد صاحب ناظر اصلاح وارشاد مرکز یہ بیان کرتے ہیں:۔حضور نماز با جماعت کی بے انتہاء پابندی کرنے والے تھے۔اس کا ثبوت ایک واقعہ نہیں بلکہ بہت سے واقعات ہیں۔خاکسار نے بار ہا دیکھا کہ حضور جب بھی ربوہ سے باہر کے کئی روزہ دورہ سے واپس آتے تو پہلا سوال ہی یہ ہوتا کہ آجکل بیت