حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ

by Other Authors

Page 16 of 27

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ — Page 16

29 28 مبارک میں نمازوں کے اوقات کیا ہیں اور یہ احتیاط اور تحقیق اس لئے ہوتی کہ اگر نمازوں کے اوقات بدل گئے ہوں تو اس کے مطابق بیت الذکر میں حاضر ہو سکیں اور نماز با جماعت سے رہ نہ جائیں۔پھر جیسا کہ خاکسار عرض کر چکا ہے کہ دوسروں کو بھی نماز کی تلقین کرنا اور نمازی بنانے کی کوشش کرنا بھی آپ کی سیرت کا ایک خاص پہلو تھا اور اس کا انداز نرالا اور خوبصورت تھا۔بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو خود تو اچھے نمازی ہوتے ہیں، باجماعت نماز کے پابند ہوتے ہیں لیکن اپنے تعلق داروں کے بارہ میں اتنے حساس اور نگران نہیں ہوتے جتنا کہ حضور رحمہ اللہ تھے۔بے انتہا توجہ تھی کہ آپ کے اردگرد کوئی ایسا فرد نہ ہو جو نماز کے حوالہ سے کسی بھی کمزوری کا شکار ہو۔خاکسار کے بچپن کی بات ہے اس وقت میری عمر انداز دس برس ہوگی۔ٹی وی پر کوئی میچ چل رہا تھا۔نماز ظہر میں ابھی کچھ وقت تھا۔حضور نماز کے کے لئے تیار ہو کر جانے لگے۔مجھے دیکھا، فرمانے لگے جانتے ہو شرک کیا ہے؟ شرک صرف بت پرستی نہیں بلکہ بڑا شرک یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اور اس سے محبت کا دعویٰ کرتا ہولیکن جب اس کی طرف آنے کے لئے پکارا جائے تو سنی ان سنی کر دے اور دنیاوی کاموں میں منہمک رہے۔فرمایا ! یہ بہت بڑا شرک ہے۔(ماہنامہ ” خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 6-5) نماز کا التزام حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے پرائیویٹ سیکرٹری مکرم منیر احمد جاوید صاحب لکھتے ہیں:۔” آپ کو نماز سے اس قدر عشق تھا کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔آپ بیماری میں کمزوری کے باوجود کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے رہے۔آخری بیماری کے دوران شدید کمزوری کے باوجود آپ جس طرح سہارا لے کر اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے ہوئے بیوت الذکر میں نماز پڑھانے کے لئے تشریف لاتے اسے تو جماعت کبھی بھی بھلا نہیں سکتی۔آپ کبھی بھی نماز کو قضا نہیں ہونے دیتے تھے۔حضور حضر میں ہوتے اور موسم خواہ سرد ہوتا یا گرم۔بارش ہو رہی ہوتی یا برف باری کا سماں ہوتا تو آپ کسی بھی قسم کی پرواہ کئے بغیر ہمیشہ خانہ خدا میں ہی جا کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔سفروں میں نماز پڑھنے کا حال بھی سن لیں۔ناروے کے ایک سفر کے دوران ہم نے انتہائی سردی میں بحری جہاز کے کھلے ڈیک پر بھی آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہوئی ہے اور اسی طرح سخت گرمی اور مچھروں کی یلغار کے وقت الاسکا میں بھی نمازیں پڑھی ہوئی ہیں۔یورپ کے سفروں میں سڑک کے کنارے مناسب جگہ دیکھ کر نمازوں کے لئے رکنے کی ہدایت تو ہمیشہ جاری رہی۔آپ کبھی