حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 13
23 22 اس عربی نبی کو گرفتار کر لے۔جب باذان کے سپاہی رسول اللہ کو گرفتار کرنے مدینہ پہنچے تو ایک بڑی تعداد تھی۔میں ان کا سپہ سالا راعظم تھا۔رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعے خبر دی کہ خسرو کو اس گستاخی کی سزا میں اللہ تعالیٰ عراق کا علاقہ جہاں مجھے جہاد کرنے کا حکم ملا فارس کا سب سے قیمتی علاقہ تھا جس میں نے اسی کے بیٹے سے قتل کروا دیا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔باذان یہ معجزہ دیکھ کر اپنے قبیلے پاکستان کے دریائے سندھ اور مصر کے دریائے نیل جیسے دو بڑے بڑے دریا دجلہ اور فرات سمیت مسلمان ہو گیا اور یمن کا صوبہ فارس کی حکومت سے نکل گیا۔اس لئے فارسیوں کو بہتے ہیں۔طیسفون اور حیرا اس کے دو بڑے بڑے شہر تھے۔طیسفون دریائے دجلہ کے مسلمانوں سے اور بھی زیادہ دشمنی ہوگئی۔مدینہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو اوپر سے مسلمان دونوں طرف پھیلا ہوا تھا اور فارس کا دارالحکومت تھا عرب اسے مدائن کہتے تھے۔حیرا اور اندر سے اسلام کے دشمن تھے اُنہیں منافق کہتے ہیں۔اسی طرح مدینہ میں یہودی بھی دریائے فرات کے کنارے ایک مشہور شہر تھا جہاں ہر طرف چمک دمک اور چہل پہل نظر آتی رہتے تھے۔اور یہ دونوں مسلمانوں کے دشمن تھے۔جب انہیں مدینہ میں سے نکالا گیا تو تھی اس کے علاوہ ابلہ عراق کی مشہور بندرگاہ تھی جہاں ہندوستان ، چین اور کئی دوسرے انہوں نے بھی فارسیوں کو عرب پر حملہ کرنے کے لئے اُبھارا۔ملکوں کے جہازر کتے تھے۔مجھے حضرت ابو بکر نے یمامہ سے ابلہ ہی جانے کا حکم دیا تھا۔رسول اللہ کی وفات کے بعد جب عرب میں بغاوت کا فتنہ بلند ہوا۔تو فارس نے فارس کی فوج اپنے زمانہ کی سب سے طاقتور فوج تھی ان کے پاس اس زمانہ کے عرب پر حملہ کرنے کے لئے اپنی فوجیں عراق میں جمع کر دیں اس وقت حضرت ابو بکر بہترین اور مضبوط جنگی ہتھیار تھے۔ان کے مقابلے میں میری فوج میں معمولی تجربہ رکھنے نے مثنی بن حارثہ کو ایک چھوٹا سا دستہ دے کر عراق کی طرف روانہ کیا تا کہ چھاپے مار مار والے لوگ تھے اور ان کے پاس سامانِ جنگ بھی معمولی قسم کا تھا تا ہم خلیفہ وقت کی دعائیں کر عراقی رئیسوں کو ڈرائے اور بغاوت ختم ہونے تک فارس کو عرب پر حملہ کرنے کی ہمارے ساتھ تھیں اور ہمیں خدا کی ذات پر بھروسہ تھا۔جرات نہ ہو۔اب بغاوت کا فتنہ ختم ہو چکا تھا اس لئے حضرت ابوبکر نے مجھے جنوبی عراق میں جہاد کرنے کے لئے ارشا د فر مایا۔میرے پاس صرف دو ہزار کی فوج رہ گئی تھی۔میں نے حضرت جنگ سلاسل میں نے یمامہ سے روانہ ہوتے وقت عراقی سرحد کے حکمران ہر مزکوخط لکھا کہ ”اسلام ابو بکر کو لکھا انہوں نے ایک شخص قعقاع بن عمرو کو مد ینہ سے کمک کے طور پر روانہ فرمایا۔پر ایمان لاؤ اور سلامت رہو یا ہماری پناہ میں آجاؤ اور جزیہ ادا کرو۔ورنہ میں ایسے لوگوں کو ادھر عراق میں جہاد کا اعلان سُن کر میری فوج کے وہ لوگ بھی آگئے جو جنگ یمامہ کے بعد لے کر آرہا ہوں جنہیں موت اتنی ہی پیاری ہے جتنی تمہیں زندگی۔“ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے تھے اور میری فوج روانہ ہونے سے پہلے دس ہزار تک پہنچ بُر مز نے کسری فارس کو اس کی اطلاع دی اور خود ایک بھاری فوج لے کر یمامہ سے گئی۔میں یمامہ سے روانہ ہوا۔راستے میں منی کی فوج بھی میرے ساتھ شامل ہوگئی اسی ابلہ جانے والے راستہ پر کاظمہ کے مقام پر مجھے روکنے کے لئے صف آرا ہو گیا۔اس کی طرح اور بھی کئی لوگ جنہوں نے عراق کے جہاد کائنا تھا میری فوج میں آآکر شامل ہوتے فوج کے سپاہی راستہ روکنے کے لئے آپس میں لوہے کی زنجیریں باندھ کر کھڑے ہو گئے۔رہے۔اور میری فوج میں اٹھارہ ہزار مسلمان اکٹھے ہو گئے یہ جنگ کے لئے مسلمانوں کی میں نے اصل راستہ بدل لیا اور ابلہ کے دوسری طرف حفیر کے مقام پر پہنچ گیا۔جب ہر مزکو