حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 12
21 20 لشکروں کے ساتھ پہلے سے موجود تھے۔مسیلمہ کے پاس چالیس ہزار کی فوج تھی اور ایک بہترین انسان یعنی رسول اللہ کے چچا حمزہ کو اور حالت اسلام میں ایک بدترین انسان مسلمانوں کو اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی فوج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اس لئے حضرت ابوبکر یعنی مسیلمہ کو قتل کیا۔جنگ رات تک ہوتی رہی۔اس جنگ میں مسیلمہ کی فوج کے اکیس ہزار نے عکرمہ اور شرحبیل کے لشکروں کو بھی میرے ماتحت کر دیا۔میرے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار لوگ مارے گئے اور بارہ سو مسلمان شہید ہوئے۔ہوگئی۔میں اپنے لشکر کو لے کر عقرباء کے مقام پر خیمہ زن ہوا۔اور اتنی بڑی فوج کے ساتھ میں نے یمامہ کے نزدیک اپنا صدر مقام بنایا اور وہیں مقیم ہو کر انگلی فوجی کارروائی کے مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنانے لگا۔مسلمانوں نے ساری رات عبادت اور دعاؤں میں لئے حضرت ابو بکر کے حکم کا انتظار کرنے لگا۔کچھ عرصے بعد جب باقی لشکروں نے بھی اس گزاری۔شوال ااھ (بمطابق دسمبر ۶۳۲ء ) کی ایک صبح کو مسیلمہ کے ساتھ جنگ شروع فتنہ کا اپنے اپنے علاقہ میں خاتمہ کر لیا تو حضرت ابوبکر نے مجھے یہاں سے فارس کی ہوئی۔یہ جنگ یمامہ کہلاتی ہے۔بڑا سخت مقابلہ ہوا۔پہلے مسلمان پسپا ہو کر عقر باء کے میدان سے بھاگے لیکن دوبارہ صف آراء ہو کر اپنے اپنے قبیلے کے ساتھ مقابلہ کے لئے آئے۔میں نے چند بہادروں کو چن کر اپنا دستہ بھی بنایا اور پورے زور کے ساتھ مسیلمہ کے ساتھیوں پر حملہ کر دیا۔عقر باء کا زبردست شہنشاہی سے ٹکر لینے کا حکم دیا۔سلطنت فارس سے ٹکر جنگ یمامہ کے بعد میری فوج کا بیشتر حصہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گیا۔کیونکہ میدان خون سے بھر گیا۔مسیلمہ کے سپاہی بھاگنے لگے۔مسیلمہ سات ہزار کی فوج سمیت ایک حضرت ابو بکر کے حکم کے مطابق ان لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا تھا جو جنگ یمامہ کے بعد اپنے قریبی باغ میں گھس گیا جس کے اردگرد اونچی اور مضبوط دیواریں تھیں۔اور باغ کا دروازہ گھر جانا چاہتے تھے۔اور میرے پاس صرف دو ہزار فوج بچ گئی۔ان حالات میں مجھے خلیفہ بند کر لیا۔اسلامی فوج باغ کے اردگر داکٹھی ہوگئی میں کسی تدبیر کی تلاش میں اپنا دماغ ٹولنے وقت کی طرف سے فارس میں جہاد کرنے کا حکم ملا۔یہ کوئی معمولی حکم نہ تھا کیونکہ فارس اور لگا۔ایک تدبیر میرے دماغ میں آئی۔ایک صحابی برات بن مالک کو باغ کی دیوار کے روم کی حکومتیں اس زمانہ میں دنیا کی سب سے بڑی حکومتیں تھیں جن کے ناموں سے ہی دنیا او پر سے باغ میں خاموشی سے داخل کر دیا گیا اور انہوں نے باغ کے پھاٹک پر مقرر دوتین دہلتی تھی۔سپاہیوں کو قتل کر کے دروازہ کھول دیا۔مسلمان تیزی سے باغ میں گھس گئے۔بڑی سخت اس زمانے میں فارس کی حکومت تقریباً تمام براعظم ایشیا تک چھائی ہوئی تھی۔فارس لڑائی ہوئی باغ انسانوں کے خون سے بھر گیا۔مسیلمہ ہار ماننے کے لئے تیار نہ تھا اس کے جسے ایران بھی کہتے ہیں کا دارالحکومت مدائن تھا یمن اور عراق وغیرہ فارس کے صوبے تھے جو عرب کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ تھے۔فارس کا شہنشاہ کسری کہلاتا تھا۔نبی کریم کے مرید اس کی حفاظت کر رہے تھے۔حضرت حمزہ کا قاتل وحشی جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہو چکا تھا وہ بھی میری فوج میں زمانے میں خسرو پرویز کسری فارس یعنی فارس کا شہنشاہ تھا۔شامل تھا۔اس نے نشانہ باندھ کر اپنا نیزہ مسیلمہ کی طرف پھینکا۔نیزہ مسیلمہ کے پیٹ میں آپ نے ےھ میں اسے ایک خط لکھا اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔خسرو لگا۔مسیلمہ زمین پر گرا اور ایڑیاں رگڑتا ہوا مر گیا۔وحشی کہا کرتا تھا کہ میں نے حالتِ کفر میں پرویز نے غصے میں آکر خط پھاڑ ڈالا۔اور فارس کے صوبہ یمن کے گورنر باذان کو لکھا کہ وہ